اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 333

حاب بدر جلد 3 333 حضرت عثمان بن عفان بہت اچھا! اندر آجاؤ۔اندر آ کے خرید لیں۔تاجر لوگ آپ کے گھر میں داخل ہوئے اور غلے کو حضرت عثمان کے گھر میں پڑا ہوا پایا۔حضرت عثمان نے تاجروں سے کہا جو سامان میں نے ملک شام سے ، جو جہاں سے میں نے خریدا ہے میری قیمت خرید پر آپ کتنا منافع دیں گے ؟ شام سے سامان لے کر آیا ہوں۔میں یہاں وہاں سے خرید کے لایا ہوں۔تم مجھے بتاؤ تم مجھے اس پر کتنا منافع دو گے؟ وہاں جتنے لوگ تھے کچھ مفت تقسیم کرنا چاہتے تھے کچھ تاجر تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم دس کے بارہ دے دیں گے۔اگر اس کی قیمت دس درہم ہے تو ہم بارہ دے دیتے ہیں۔حضرت عثمان نے کہا مجھے اس سے زیادہ مل رہا ہے۔تو انہوں نے کہا ہم دس کے پندرہ دے دیں گے۔دس کے بجائے ہم پندرہ دینے کو تیار ہیں۔حضرت عثمان نے کہا مجھے اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے۔تاجروں نے کہا اے ابو عمرو! مدینہ میں تو ہمارے علاوہ اور کوئی تاجر نہیں ہے۔تو کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے۔حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے ہر درہم کے بدلے دس زیادہ دے رہا ہے۔ہر ایک کے بدلے میں دس گنا دے رہا ہے۔کیا آپ لوگ اس سے زیادہ دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا نہیں ہم تو اس سے زیادہ نہیں دے سکتے۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا: میں اللہ کو گواہ بناتے ہوئے اس غلے کو مسلمانوں کے فقراء پر صدقہ کرتا ہوں۔یعنی یہ سارے کا سارا غلہ میں غریبوں کو دیتا ہوں اور اس کی کوئی قیمت نہیں لوں گا۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جس دن یہ واقعہ ہوا، غلہ تقسیم کیا گیا، صدقہ دیا گیا میں نے اس رات رسول اللہ صلی یکم کو خواب میں دیکھا۔آپ ایک غیر عربی گھوڑے پر سوار ہیں جو بڑے جے والا ہے۔آپ پر نور کی پوشاک ہے اور آپ الله 643 کے پیروں میں نور کی جوتیاں ہیں اور ہاتھ میں نور کی چھڑی ہے اور آپ جلدی میں ہیں۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں آپ کا اور آپ سے گفتگو کا بہت مشتاق ہوں۔آپ اتنی جلدی میں کہاں تشریف لے جارہے ہیں۔آپ صلی علیہم نے فرمایا: اے ابن عباس! عثمان نے ایک صدقہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمالیا ہے اور جنت میں اس کی شادی کی ہے اور ہمیں ان کی شادی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔13 حضرت عثمان کا ”حضرت عمرؓ کے عہد میں کردار اور مقام اور مرتبہ“ کے بارے میں یہ چند باتیں بیان کر تاہوں۔جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو آپ نے بڑے صحابہ سے بیت المال سے اپنے وظیفہ کے متعلق مشورہ کیا۔اس پر حضرت عثمانؓ نے عرض کیا۔کھائیے اور کھلائیے۔جو آپ کی ضروریات ہیں آپ پوری کریں اور جو لوگوں کی ضروریات ہیں وہ بھی پوری کریں۔کوئی فکس ( fix) کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوا اور مال کی کثرت ہوئی تو حضرت عمرؓ نے صحابہ میں سے بعض کو اس مال کے بارے میں مشاورت کے لیے اکٹھا کیا۔حضرت عثمان نے عرض کیا: میں دیکھتا ہوں کہ مال بہت ہو گیا ہے جو لوگوں کے لیے کافی ہے۔اگر لوگوں کے اعدادو شمار اکٹھے نہ کیے گئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کس نے لے لیا ہے اور کس نے نہیں لیا تو مجھے ڈر ہے 644