اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 332
محاب بدر جلد 3 332 حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان ان صحابہ اور اہل شوریٰ میں سے تھے جن سے اہم ترین مسائل میں رائے لی جاتی تھی۔جب حضرت ابو بکر نے فتنہ ارتداد کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیا تو روم پر چڑھائی کرنے اور مختلف اطراف میں مجاہدین کو روانہ کرنے کا ارادہ فرمایا اور اس سلسلہ میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا۔بعض صحابہ نے مشورہ دیا۔اس پر حضرت ابو بکر نے مزید مشورہ طلب فرمایا۔جس پر حضرت عثمان نے عرض کیا کہ آپ اس دین کے ماننے والوں کے خیر خواہ اور مشفق ہیں۔پس آپ جس رائے کو عام لوگوں کے لیے مفید سمجھیں تو اس پر عمل کرنے کا پختہ عزم کر لیں کیونکہ آپ کے بارے میں بدظنی نہیں کی جا سکتی۔یعنی حضرت ابو بکر کو عرض کیا کہ آپ کے بارے میں بدظنی نہیں کی جاسکتی۔اس پر حضرت طلحہ حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت سعید بن زید اور اس مجلس میں موجود مہاجرین و انصار نے کہا حضرت عثمان نے سچ کہا ہے۔آپ جو مناسب سمجھیں کر گزریں۔ہم نہ تو آپ کی مخالفت کریں گے اور نہ ہی آپ پر کوئی الزام لگائیں گے۔اس کے بعد حضرت علیؓ نے گفتگو کی۔پھر حضرت ابو بکر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بیان کیا جس کا وہ اہل ہے اور نبی کریم صلی کم پر درود بھیجا۔پھر فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر اسلام کے ذریعے سے فضل نازل فرمایا اور جہاد کے ذریعہ تمہیں عزت بخشی اور اس دین کے ذریعہ تم لوگوں کو تمام ادیان پر فضیلت بخشی۔پس اے اللہ کے بندو! ملک شام میں روم کے ساتھ جنگ کے لیے لشکر کی تیاری کرو۔حضرت ابو بکر نے جب اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ حضرت آیبان بن سعید کے بعد کس کو بحرین کا گورنر بنا کر بھیجا جائے تو حضرت عثمان بن عفانؓ نے عرض کیا اس آدمی کو بھیجیں جسے رسول اللہ صلی علیکم نے بحرین والوں پر گورنر مقرر فرمایا تھا اور وہ ان کے قبول اسلام اور اطاعت کرنے کا موجب ہو اتھا اور وہ ان لوگوں سے اور ان کے علاقے سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔وہ علاء بن حضرھی ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے علاء بن حضرمی کو بحرین بھیجنے پر اتفاق کر لیا۔642 641 حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں ایک مرتبہ بارش نہیں ہوئی۔لوگ حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آسمان بارش نہیں برسا رہا اور زمین فصلیں نہیں اگا ر ہی۔لوگ سخت شدید مصیبت کا شکار ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور شام تک صبر سے کام لو۔اللہ تعالیٰ تمہاری پریشانی کو دور فرما دے گا۔اتنے میں حضرت عثمان کا سو اونٹوں کا تجارتی قافلہ گندم یا کھانے کا سامان لادے شام سے مدینہ پہنچ گیا۔اس کی خبر سن کر لوگ حضرت عثمان کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔حضرت عثمان لوگوں میں نکلے اور پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ قحط سالی کا زمانہ ہے۔آسمان بارش نہیں برسا رہا اور زمین بھی فصلیں نہیں اگار ہی۔لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس غلہ ہے۔آپ اسے ہمارے پاس فروخت کر دیں تاکہ ہم اسے فقراء اور مساکین تک پہنچا دیں۔حضرت عثمان نے فرمایا: