اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 321

تاب بدر جلد 3 321 حضرت عثمان بن عفان سکے ایک شخص خراش بن امیہ کو اس کام کے لیے چنا جو قبیلہ خُزاعہ سے تعلق رکھتا تھا۔یعنی وہی قبیلہ جس سے قریش کے سب سے پہلے سفیر بدیل بن ورقا کا تعلق تھا اور اس موقع پر آنحضرت صلی ا ہم نے خراش کو سواری کے لیے خود اپنا ایک اونٹ عطا فرمایا۔خراش قریش کے پاس گیا مگر چونکہ ابھی یہ گفتگو کا ابتدائی مرحلہ تھا اور نوجوانان قریش بہت جوش میں تھے۔ایک جوشیلے نوجوان عکرمہ بن ابو جہل نے خراش کے اونٹ پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا جس کے عربی دستور کے مطابق یہ معنی تھے کہ ہم تمہاری نقل و حرکت کو جبر آروکتے ہیں۔علاوہ ازیں قریش کی یہ جو شیلی پارٹی خود خراشن پر بھی حملہ کرنا چاہتی تھی مگر بڑے بوڑھوں نے بیچ بچاؤ کر کے اس کی جان بچائی اور وہ اسلامی کیمپ میں واپس آگیا۔کفار کی طرف سے وہ واپس آگیا۔قریش مکہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے جوش میں اندھے ہو کر اس بات کا بھی ارادہ کیا کہ اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ کم اور آپ کے صحابہ مکہ سے اس قدر قریب اور مدینہ سے اتنی دور آئے ہوئے ہیں تو ان پر حملہ کر کے جہاں تک ممکن ہو نقصان پہنچایا جائے۔چنانچہ اس غرض کے لیے انہوں نے چالیس پچاس آدمیوں کی ایک پارٹی حدیبیہ کی طرف روانہ کی اور اس گفت و شنید کے پر دے میں جو اس وقت فریقین میں جاری تھی ان لوگوں کو ہدایت دی کہ اسلامی کیمپ کے ارد گرد گھومتے ہوئے تاک میں رہیں اور موقع پا کر مسلمانوں کا نقصان کرتے رہیں بلکہ بعض روایتوں سے یہاں تک پتہ لگتا ہے کہ یہ لوگ تعداد میں اسی تھے اور اس موقع پر قریش نے آنحضرت صلی ایم کے قتل کی بھی سازش کی تھی مگر بہر حال خدا کے فضل سے مسلمان اپنی جگہ ہوشیار تھے۔چنانچہ قریش کی اس سازش کا راز کھل گیا اور یہ لوگ سب کے سب گرفتار کر لیے گئے۔مسلمانوں کو اہل مکہ کی اس حرکت پر جو اشہر حرم میں اور پھر گویا حرم کے علاقہ میں کی گئی تھی سخت طیش تھا مگر آنحضرت صلی ا ہم نے ان لوگوں کو معاف فرما دیا اور مصالحت کی گفتگو میں روک نہ پیدا ہونے دی۔اہل مکہ کی اس حرکت کا قرآن شریف نے بھی ذکر کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِى كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطِن مَكَةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (الت: 25) یعنی خدا نے اپنے فضل سے کفار کے ہاتھوں کو مکہ کی وادی میں تم سے روک کر رکھا اور تمہاری حفاظت کی اور پھر جب تم نے ان لوگوں پر غلبہ پالیا اور انہیں اپنے قابو میں کر لیا تو خدا نے تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک کر رکھا۔حضرت عثمان کا مکہ جانا اور بیعت رضوان بہر حال جب ہم ان تمام حالات اور اس پس منظر میں آنحضرت صلی اللہ ر مسلسل صبر اور حوصلہ اور امن کی کوشش کو دیکھتے ہیں جو انتہا کو پہنچا ہوا ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ ایک صبر اور امن کی کوشش ہے جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔آپ مسلسل اس کوشش میں تھے کہ امن کی صورت پیدا ہو۔انحضرت صلی علیم نے جب قریش کی شرارت کو دیکھا اور ساتھ ہی خراش بن امیہ سے اہل مکہ کے جوش