اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 309
اصحاب بدر جلد 3 309 حضرت عثمان بن عفان ہجرت کا علم ہوا تو سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہاتھ سے نکل گیا۔چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا اس لئے خائب و خاسر واپس لوٹے۔حبشہ میں پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکارا ملا۔لیکن جیسا کہ بعض مورخین نے بیان کیا ہے ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ایک اڑتی ہوئی افواہ ان تک پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکہ میں اب بالکل امن و امان ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بلا سوچے سمجھے واپس آگئے۔جب یہ لوگ مکہ کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔اب ان کے لئے بڑی مصیبت کا سامنا تھا۔بالآخر بعض تو راستہ میں سے ہی واپس لوٹ گئے اور بعض چھپ چھپ کر یا کسی ذی اثر اور طاقتور شخص کی حمایت میں ہو کر مکہ میں آ گئے۔یہ شوال 15 نبوی کا واقعہ ہے۔یعنی آغاز ہجرت اور مہاجرین کی واپسی کے درمیان صرف ڈھائی تین ماہ کا فاصلہ ہے۔۔گو حقیقتا یہ افواہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد تھی جو مہاجرین حبشہ کو واپس لانے اور ان کو تکلیف میں ڈالنے کی غرض سے قریش نے مشہور کر دی ہو گی بلکہ زیادہ غور سے دیکھا جاوے تو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصہ ہی بے بنیاد نظر آتا ہے۔لیکن اگر اسے صحیح سمجھا جاوے تو ممکن ہے کہ اس کی تہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے۔“اگر اس طرح دیکھا جائے، اگر اس کو صحیح مانا جائے تو بعضوں کی جو یہ روایت ہے کہ حضرت عثمان چند سال ٹھہرے وہ روایت پھر غلط نکلتی ہے اور اگر اس کو غلط سمجھا جائے تو پھر تین چار مہینے میں واپس آگئے لیکن بہر حال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ یہ بات غلط ہی ہے۔وہ لکھتے ہیں ”اگر اسے صحیح سمجھا جاوے تو ممکن ہے کہ اس کی تہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے۔اور وہ جیسا کہ بخاری میں آتا ہے یہ ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی ا ہم نے صحن کعبہ میں سورہ نجم کی آیات تلاوت فرما ئیں۔اس وقت وہاں کئی ایک رؤسائے کفار بھی موجود تھے اور بعض مسلمان بھی تھے۔جب آپ نے سورت ختم کی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ہی تمام مسلمان اور کافر بھی سجدہ میں گر گئے۔“ بہر حال ”کفار کے سجدہ کی وجہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی کہ وہ کیوں گر گئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ ہم نے نہایت پر اثر آواز میں آیات الہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیات بھی ایسی تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ خدا کی وحدانیت اور اس کی قدرت و جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے تھے اور پھر ایک نہایت پر رعب و پر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہو گا جو ان سے پہلے ان قوموں کا ہوا جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی علیہ نما مسلمان یکلخت سجدہ میں گر گئے تو اس کلام اور اس نظارہ کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار