اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 310

اصحاب بدر جلد 3 310 حضرت عثمان بن عفان ہو کر مسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت۔۔۔بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول و مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔ضروری نہیں ہو تا کہ اس کو مان کے یہ حرکت ہوئی ہو۔بے اختیاری میں بعض دفعہ حرکت ہو جاتی ہے۔” بعض اوقات ایک سخت اور ناگہانی آفت کے وقت ایک دہر یہ بھی اللہ اللہ یا رام رام پکار اٹھتا ہے۔“ میں نے بھی بعض دہریوں سے پوچھا ہے اور وہ کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمیں خدا پر یقین نہیں لیکن کوئی ایسی خطرناک حالت ہو تو بے اختیار منہ سے خدا کا لفظ نکل آتا ہے۔تو بہر حال ” قریش تو دہر یہ نہ تھے بلکہ بہر حال خدا کی ہستی کے قائل تھے۔پس جب اس پر رعب اور پر جلال کلام کی تلاوت کے بعد مسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدہ میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر گئے لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے۔چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور سجدہ سے اٹھ کر قریش پھر وہی بت پرست کے بت پرست تھے۔“ یہ نہیں کہ وہ موحد بن گئے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔پس اگر مہاجرین حبشہ کی واپسی کی خبر درست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرین حبشہ کے واپس لانے کے لیے بیتاب ہو رہے تھے اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہو گی کہ قریش مکہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکہ میں مسلمانوں کے لئے بالکل امن ہے اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ کو پہنچی تو وہ طبعاً اسے سن کر بہت خوش ہوئے اور سنتے ہی خوشی کے جوش میں واپس آگئے لیکن جب وہ مکہ کے پاس پہنچے تو حقیقت امر سے آگاہی ہوئی جس پر بعض تو چھپ چھپ کر اور بعض کسی طاقتور اور صاحب اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔پس اگر قریش کے مسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اسی قدر تھی جو سورۃ نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔واللہ اعلم۔بہر حال اگر مهاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو ان میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش دن بدن اپنی ایذارسانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے۔اس لئے آنحضرت صلی علی ایم کے ارشاد پر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پاکر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر ان مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ا یک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی تھیں اور مکہ میں آنحضرت صلی ایم کے پاس بہت ہی تھوڑے مسلمان رہ گئے۔اس ہجرت کو بعض مؤرخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔66 پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنا ایک تجزیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”ایک اور بات