اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 305
اصحاب بدر جلد 3 305 حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین یعنی ”دونوروں والا “ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔601 ایک صحیح قول کے مطابق حضرت عثمان کی ولادت کے بارے میں یہ بھی ایک روایت ملتی ہے کہ حضرت عثمان عام الفیل کے چھ سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ طائف میں پیدا ہوئے تھے۔آپ رسول اللہ صلی علیم سے تقریب پانچ سال چھوٹے تھے۔602 قبول اسلام آپ کے قبولِ اسلام کے بارے میں یزید بن رومان روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ دونوں حضرت زبیر بن عوام کے پیچھے پیچھے نکلے اور رسول اللہ صلی علی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ان دونوں کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا اور انہیں اسلام کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی عزت واکرام کا وعدہ کیا۔اس پر وہ دونوں، حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحہ ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی۔پھر حضرت عثمانؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں حال ہی میں ملک شام سے واپس آیا ہوں۔جب ہم معان اور زرقاء مقام کے درمیان پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔مکان اردن کے جنوب میں حجاز کی حدود کے قریب ایک شہر ہے اور زر قاءیہ معان کے ساتھ ہی واقع ہے۔بہر حال کہتے ہیں وہاں ہم پڑاؤ کیسے ہوئے تھے اور ہم سوئے ہوئے تھے کہ ایک منادی کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے سونے والو ! جا گو۔یقیناً احمد مکہ میں ظاہر ہو چکا ہے۔پھر جب ہم واپس پہنچے تو ہم نے آپ کے بارے میں سنا۔حضرت عثمان رسول اللہ صلی علی دلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے قدیمی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔قبول اسلام کے بعد آپ پر ظلم بھی ہوئے۔603 موسیٰ بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان نے اسلام قبول کیا تو آپ کے چچا حکم بن ابو العاص بن امیہ نے آپ کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا اور کہا کیا تم اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ کر نیادین اختیار کرتے ہو۔بخدا میں تمہیں ہر گز نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ تم اپنا یہ نیادین چھوڑ نہ دو۔اس پر حضرت عثمان نے کہا خدا کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ اس سے علیحدگی اختیار کروں گا۔حکم نے جب آپ کے دین پر مضبوطی کی یہ حالت دیکھی تو پھر مجبوراً آپ کو چھوڑ دیا۔604 بنت رسول صلى ال علم حضرت رقیہ سے شادی حضرت رقیه سے جب آپ کی شادی ہوئی تو اس کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کے دعویٰ نبوت سے پہلے حضرت رقیہ نگار شتہ ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے اور ان کی بہن حضرت ام کلثوم کا