اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 306
صحاب بدر جلد 3 306 حضرت عثمان بن عفان رشتہ عقبہ کے بھائی عتیبہ سے ہو چکا تھا۔جب سورة المسد یعنی سورۃ اللھب نازل ہوئی تو ان کے باپ ابو لہب نے ان سے کہا کہ اگر تم دونوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں سے علیحدہ نہ ہوئے تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔یہ رشتے توڑ دو۔اس پر ان دونوں نے رخصتی سے قبل ہی دونوں بہنوں کو طلاق دے دی۔اس کے بعد حضرت عثمان بن عفان نے مکہ میں ہی حضرت رقیہ سے شادی کر لی اور ان کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کی۔حضرت رقیہ اور حضرت عثمان دونوں ہی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اَحْسَنَ زَوْجَيْنِ رَاهُمَا إِنْسَانٌ رُقَيَّةُ وَزَوْجُهَا عُثمان۔سب سے خوبصورت جوڑا جو کسی انسان نے دیکھا ہو وہ حضرت رقیہ اور ان کے شوہر حضرت عثمان ہیں۔5 عبد الرحمن بن عثمان قرشی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الی و تم اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے۔605 وہ اس وقت حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں۔اس پر رسول اللہ صلی ا لم نے فرمایا: بیٹی ! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی رہو۔یقینا یہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ہجرت حبشہ 606 ہجرت کے واقعہ کے بارے میں ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الیکم نے دیکھا کہ آپ کے صحابہ کو آزمائش پہنچ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقام و مرتبہ کی وجہ سے اور اپنے چچا ابو طالب کی وجہ سے آپ عافیت میں تھے۔یعنی آپ صلی المیہ کم تو عافیت میں تھے اور یہ کہ جس آزمائش میں صحابہ تھے اسے روکنے کی آپ قدرت اور طاقت نہیں رکھتے تھے۔گو خود تو کچھ حد تک امن میں تھے لیکن صحابہ پر جو ظلم ہو رہے تھے ان ظلموں کو روکنے کی آپ میں طاقت نہیں تھی۔اس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اگر تم حبشہ کی سرزمین کی طرف نکلو تو وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی ایک پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سچائی کی سر زمین ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس آزمائش سے فراخی عطا فرما دے گا جس میں تم لوگ ہو۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم کے اصحاب فتنہ کے خوف سے اور اپنے دین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار کے لیے آنحضرت صلی اللی نیم کے پاس سے حبشہ کی سر زمین کی طرف روانہ ہوئے۔یہ اسلام میں ہونے والی پہلی ہجرت تھی۔حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابہ میں حضرت عثمانؓ اپنی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی العلم کے ساتھ شامل تھے۔607 حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان حبشہ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے تو ان کے ساتھ حضرت رقیہ بنت رسول صلی علیہ کم بھی تھیں۔نبی صلی علیہ یکم تک ان کی خبر پہنچنے میں تاخیر ہو گئی۔پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ ہجرت کی ہے تو کہاں تک پہنچے ہیں، کیا حال ہے؟ تو آپ باہر نکل کر ان کے متعلق خبر کا انتظار