اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 271
باب بدر جلد 3 271 حضرت عمر بن خطاب تھے۔ابو موسیٰ اشعری نے کہا اے انصار کی جماعت ! کیا تم رسول اللہ صلی ال نیلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو ، کیارسول اللہ صلی ا ہم نے یہ نہیں فرمایا الاستغذَانُ ثَلَاثٌ ؟ یعنی اجازت طلبی تین بار ہے۔اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو کوٹ جاؤ۔یہ سن کر لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے۔ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر ابو موسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا اس سلسلہ میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ٹھیک کہا ہے۔راوی کہتے ہیں پھر وہ یعنی ابو سعید ، عمر کے پاس آئے اور ان کو اس حدیث کی خبر دی۔حضرت عمر نے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا اور اب مجھے علم ہو گیا ہے۔493 صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی ال نیم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سمیت اور لوگ بھی تھے۔رسول اللہ صلی املی کم ہمارے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے مگر آپ کو واپسی میں دیر ہو گئی اور ہم ڈرے کہ آپ ہم سے کٹ نہ جائیں اور ہم گھبر اگئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی تو میں رسول اللہ صلی علی کرم کو ڈھونڈنے کے لیے باہر نکل پڑا یہاں تک کہ میں انصار کے ایک باغ کے پاس آیا جو بنو نجار کا تھا۔میں نے اس کے گرد چکر لگایا کہ دروازہ ڈھونڈوں مگر میں نے دروازہ نہ پایا پھر دیکھا کہ پانی کا ایک بڑا نالہ باہر ایک کنویں سے باغ کے اندر جاتا ہے تو کہتے ہیں میں اس میں لومڑی کے سمٹنے کی طرح سمٹ کر نالے کے ذریعہ سے داخل ہوا اور رسول اللہ صلی نیم کے پاس چلا گیا۔آپ نے پوچھا ابو ہریرہ؟ میں نے کہا جی ہاں یارسول اللہ ! فرمایا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے مگر واپسی میں آپ کو دیر ہو گئی تو ہم ڈر گئے کہ آپ ہم سے کٹ نہ جائیں تو ہم گھبراگئے۔سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی اور میں اس باغ کے پاس آیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر اس میں داخل ہوا اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔آنحضرت صلی العلیم نے مجھے اپنے جوتے دیے اور آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ اور جو کوئی اس باغ کے پرے تمہیں ملے اور یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہو تو اس بات پر اسے جنت کی بشارت دے دو۔کہتے ہیں: میں جب گیا تو سب سے پہلے حضرت عمرؓ ملے۔انہوں نے کہا اے ابوہریرہ ! یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا یہ رسول اللہ صلی علیکم کے جوتے ہیں اور آپ صلی الی ایم نے یہ نشانی کے طور پر مجھے دیے ہیں اور ان دونوں کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں جس سے ملوں اور وہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو تو میں اسے جنت کی بشارت دوں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمرؓ نے غصہ میں زور سے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور میں پشت کے بل گرا۔انہوں نے کہا اے ابوہریرہ ! واپس جاؤ۔خیر کوئی ضرورت نہیں کسی کو کچھ کہنے کی۔کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس