اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 270
تاب بدر جلد 3 270 حضرت عمر بن خطاب کرتہ مجھ سے پھٹ گیا۔جب رسول کریم صلی العلیم نے یہ بات سنی تو غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔آپ نے فرمایا۔اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے جب ساری دنیا میرا انکار کرتی تھی اور تم لوگ بھی میرے مخالف تھے اس وقت ابو بکر ہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور ہر رنگ میں اس نے میری مدد کی۔پھر افسردگی کے ساتھ فرمایا کیا اب بھی تم مجھے اور ابو بکر کو نہیں چھوڑتے ؟ آپ یہ فرما رہے تھے کہ حضرت ابو بکر داخل ہوئے۔یہ ہو تا ہے سچے عشق کا نمونہ کہ بجائے یہ عذر کرنے کے کہ یارسول اللہ ! میرا قصور نہ تھا عمر کا قصور تھا۔“ حضرت ابو بکر جب داخل ہوئے اور ”آپ نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی علی یکم کے دل میں خفگی پیدا ہو رہی ہے آپ سچے عاشق کی حیثیت سے برداشت نہ کر سکے کہ میری وجہ سے رسول کریم صلی للہ ہم کو تکلیف ہو۔“ اس لئے حضرت ابو بکر وہ آتے ہی رسول کریم صلی ال ملک کے سامنے گھ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! عمر کا قصور نہیں تھا میر اقصور تھا۔“491 حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے لوگوں سے عورت کے جنین کے اسقاط کی صورت میں اس کی دیت کے بارے میں مشورہ کیا۔مغیرہ نے کہا کہ نبی کریم صلی المی کم نے ایک غلام یا لونڈی کی قیمت بطور دیت ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس بات کی گواہی دے۔پھر محمد بن مسلمہ نے گواہی دی کہ وہ نبی کریم صلی علیم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ ہم نے ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔492 یعنی کسی ظلم کی وجہ سے یا زبر دستی کسی عورت کا اسقاط ہو جائے یا کروایا جائے تو پھر اس کی دیت دینی ضروری ہے اور جس نے یہ ظلم کیا ہو وہ دیت دے گا اور ایک لونڈی یا غلام آزاد کرے گا۔حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا السلام علیکم۔کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ عمرؓ نے دل میں کہا ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے۔تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا السلام علیکم۔کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ عمرؓ نے دل میں کہا یعنی جواب دل میں دیا اور پھر کہا کہ ابھی دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔تھوڑی دیر مزید خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا السلام علیکم۔کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے ؟ جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تین بار اجازت طلب کر چکے تو پھر واپس ہو لیے۔جب تین بار انہوں نے اجازت لے لی اور حضرت عمر کا جواب نہیں سنا تو واپس چلے گئے۔عمرؓ نے دربان سے کہا ابو موسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ لوٹ گئے ہیں۔عمرؓ نے کہا کہ انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ۔پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو حضرت عمرؓ نے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے سنت پر عمل کیا ہے۔عمرؓ نے کہا سنت پر ؟ قسم اللہ کی تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل اور ثبوت پیش کرنا ہو گاور نہ میں تمہارے ساتھ سخت بر تاؤ کروں گا۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ پھر وہ ہمارے پاس آئے۔اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ