اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 9

صحاب بدر جلد 3 9 حضرت عمر بن خطاب تشریف لائے اور حجر اسود کے پاس جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی اور پھر تشریف لے گئے۔اس وقت میں نے ایسا کلام سنا جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔چنانچہ جب آپ صلی یہ تم وہاں سے نکلے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔آپ نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ عمر ہوں تو آپ نے فرمایا اے عمر ! تم مجھے نہ رات کو چھوڑتے ہو اور نہ دن کو۔یہ سن کر میں ڈرا کہ کہیں آپ میرے لیے بد دعانہ فرما دیں تو میں نے فوراً کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں۔تب آپ نے مجھ سے فرمایا اے عمر! کیا تم اپنے اسلام کو چھپانا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا ہے کہ میں اپنے اسلام کا بھی اسی طرح اعلان کروں گا جیسے اپنے شرک کا اعلان کیا کرتا تھا۔اس پر آپ صلی علیہ یکم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور فرمایا اے عمر! اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت پر قائم رکھے۔اس کے بعد آپ نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے ثابت قدمی کی دعا فرمائی۔اس کے بعد میں رسول اللہ صلی العلم کے پاس سے چلا گیا اور آپ اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔21 اسلام قبول کرنے کے متعلق جو پانچویں اور مشہور روایت ہے اس کی کچھ مختصر تفصیل پہلے بھی بیان ہو چکی ہے۔وہ اس طرح ہے کہ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر تلوار سونتے ہوئے نکلے۔راستے میں بنو زہرہ کا ایک آدمی ملا اس نے آپ سے پوچھا عمر کہاں کا ارادہ ہے ؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا محمد صلی ا و م کو قتل کرنے جارہا ہوں (نعوذ باللہ )۔اس نے کہا محمد صلی الم کو قتل کر کے کیا تم بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے امن پالو گے؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم صابی ہو گئے ہو۔اس کو بھی کہا اور اپنے دین سے پھر گئے ہو جس پر تم تھے۔اس آدمی نے کہا کہ اے عمر! کیا میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں۔مجھے تم کہہ رہے ہو کہ صابی ہو گئے ہو تو اس سے بھی بڑی بات بتاتا ہوں کہ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں صابی ہو گئے ہیں اور اس دین سے منحرف ہو گئے ہیں جس پر تم ہو۔یہ سن کر حضرت عمر دونوں کو ملامت کرتے ہوئے ان کے گھر آئے۔دونوں کے پاس مہاجرین میں سے ایک صحابی حضرت خباب تھے۔حضرت خباب کے ضمن میں یہ واقعہ میں نے پہلے بیان بھی کیا ہے۔22 انہوں نے جب حضرت عمر کی آواز سنی تو وہ گھر کے اندر چھپ گئے۔حضرت عمر گھر میں داخل ہوئے تو کہا تم کیا پڑھ رہے تھے ؟ یہ کیا آواز تھی جو میں نے تمہاری طرف سے سنی ہے ؟ اس وقت وہ لوگ سورہ کا پڑھ رہے تھے۔انہوں نے کہا ایک بات کے سوا کچھ نہ تھا جو ہم آپس میں کر رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں نے سنا ہے کہ تم دونوں اپنے دین سے منحرف ہو گئے ہو۔حضرت عمرؓ کے بہنوئی نے کہا اے عمر ! کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ حق تمہارے دین کے سوا دوسرے دین میں ہو۔سچائی کی تلاش کرنی ہے ناں تو کبھی تم نے غور کیا ہے کہ شاید دوسرے دین میں سچائی ہو۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اپنے بہنوئی کو پکڑ لیا اور سختی سے زدو کوب کیا۔آپؐ کی بہن اپنے خاوند کو بچانے کے لیے آئیں تو حضرت