اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 261

حاب بدر جلد 3 261 سة حضرت عمر بن خطاب الله سة یہ سبق آنحضرت صلی علی کریم نے دیا۔پھر راوی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی ا ہم نے انہیں خُمس میں سے ایک لڑکی دی۔جب رسول اللہ صلی علی کرم نے لوگوں کے قیدی آزاد کیے اور حضرت عمرؓ نے ان کی آوازیں سنیں اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں رسول اللہ صلی علیکم نے آزاد کر دیا تو حضرت عمرؓ نے پوچھا کیابات ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے لوگوں کے قیدی آزاد کر دیے ہیں تو حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو کہا کہ اے عبد اللہ اتم اس لڑکی کے پاس جاؤ جو آنحضرت صلی ال ولم نے دی تھی اور اسے آزاد کر دو۔465 حضرت حذیفہ کو نبی کریم صلی علیم کا رازدار کہا جاتا تھا۔غزوہ تبوک کے دوران کا ایک واقعہ ہے کہ حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی املی یکم اپنی سواری سے نیچے اترے تو اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی۔آپ صلی ای کم کی سواری بیٹھی ہوئی تھی تو وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنی مہار کو کھینچنا شروع کر دیا۔میں نے اس کی مہار پکڑ لی اور اسے رسول اللہ صلی اللی نیم کے پاس لا کر بٹھا دیا۔پھر میں اس اونٹنی کے پاس بیٹھارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی ہی کم کھڑے ہو گئے اور میں اس اونٹنی کو آپ کے پاس لے گیا۔آپ مسی ایم نے پوچھا کون ہے ؟ تو میں نے جواب دیا کہ حذیفہ۔رسول اللہ صلی نیلم نے فرمایا: میں تمہیں ایک راز سے آگاہ کرنے والا ہوں اور تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔مجھے فلاں فلاں شخص کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور آپ کی ٹیم نے منافقین کی ایک جماعت کا نام لیا۔جب رسول اللہ لیا لیکم کی وفات ہو گئی تو حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں جب کوئی شخص فوت ہو جاتا جس شخص کے متعلق حضرت عمر یہ سمجھتے تھے کہ وہ منافقین کی اس جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو آپ حضرت محذیفہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نماز جنازہ پڑھنے کے لیے ساتھ لے جاتے۔اگر تو حضرت حذیفہ آپ کے ساتھ چل پڑتے تو حضرت عمر بھی اس شخص کا نماز جنازہ ادا کر لیتے اور اگر حضرت حذیفہ اپنا ہاتھ حضرت عمرؓ کے ہاتھ سے چھڑ والیتے تو حضرت عمررؓ بھی اس کی نماز جنازہ ترک کر دیتے۔حضرت عمر کا آنحضور ملی ایم کی پیشگوئی کو ظاہر پورا کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ : ”حضرت عمرؓ جو صدق اخلاص سے بھر گئے تھے انہوں نے یہ مزہ پایا کہ ان کے بعد خلیفہ ثانی ہوئے۔غرض اس طرح پر ہر ایک صحابی نے پوری عزت پائی۔قیصر و کسری کے اموال اور شاہزادیاں ان کے ہاتھ آئیں۔لکھا ہے ایک صحابی کسریٰ کے دربار میں گیا۔ملازمان کسری نے سونے چاندی کی کرسیاں بچھوا دیں اور اپنی شان و شوکت دکھائی۔اس نے کہا کہ ہم اس مال کے ساتھ فریفتہ نہیں ہوئے۔ہم کو تو وعدہ دیا گیا ہے کہ کسری کے کڑے بھی ہمارے ہاتھ آجائیں گے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کڑے ایک صحابی کو پہنا دیئے تاکہ وہ پیشگوئی پوری ہو۔4674 حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”سونا پہنا مر دوں کے لئے جائز نہیں لیکن حضرت عمرؓ نے کسری کے کڑے ایک صحابی کو پہنائے اور جب اس نے ان کے پہنے سے انکار کیا تو اس کو آپ نے ڈانشا اور 466