اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 247
اصحاب بدر جلد 3 247 حضرت عمر بن خطاب 418 اور عالی ظرف والے تھے۔نہ بے جا تعریف کرنے والے تھے اور نہ ہی غیبت کرنے والے تھے۔8 ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عمر کی وفات پر حضرت سعید بن زید روئے تو کسی نے کہا اے ابو الاخور ! آپ کیوں روتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں اسلام پر روتا ہوں۔یقیناً حضرت عمر کی وفات سے اسلام میں ایسار خنہ پید اہو گیا ہے جو قیامت تک پر نہیں ہو گا۔419 حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یی کم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ کی ابو نبی صلی الم کی امت میں آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابو بکر ہیں۔پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان ہیں رضی اللہ عنہم۔20 حضرت حذیفہ نے کہا کہ حضرت عمرؓ کے دور میں اسلام کی مثال اس شخص کی طرح تھی جو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔جب آپ کی شہادت ہو گئی تو وہ دور پیٹھ پھیر گیا اور مسلسل پیچھے جاتا جا رہا ہے۔421 حضرت عمر کی ازواج اور اولاد کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ کی مختلف وقتوں میں دس بیویاں تھیں جن میں سے نو بیٹے اور چار بیٹیاں ہوئیں۔ان میں سے ایک حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہیں آنحضرت صلی المی کم کی زوجہ مطہرہ بننے کی سعادت ملی۔حضرت زینب بنت مطعون پہلی تھیں۔یہ حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ان سے آپ کی اولاد عبد اللہ، عبد الرحمن اکبر اور حضرت حفصہ ہیں۔حضرت ام کلثوم بنت علی بن ابو طالب: ان سے آپ کی اولاد زید اکبر اور رقیہ ہیں۔ملیکہ بنت جرول: ان کو ام کلثوم بھی کہتے ہیں۔ان سے آپ کی اولاد زید اصغر اور عبید اللہ ہیں۔قریبہ بنتِ ابو امیہ مخزومی: چونکہ ملیگہ اور قریبہ ایمان نہیں لائی تھیں اس لیے حضرت عمرؓ نے چھ ہجری میں ان دونوں کو طلاق دے دی تھی۔حضرت جمیلہ بنت ثابت : ان کا نام عاصیہ تھا آنحضور صلی ا ہم نے تبدیل کر کے جمیلہ رکھ دیا تھا۔یہ بدری صحابی عاصم بن ثابت کی بہن تھیں۔ان سے آپ کی اولاد عاصم ہیں۔لھيَّه سے آپ کی اولاد عبد الرحمن اوسط ہیں۔ایک اور آپ کی بیوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ام ولد ہیں یعنی کہ وہ لونڈی جس سے شادی کی جاتی ہے۔اس کی اولاد ہو تو وہ آزاد ہو جاتی ہے۔ایک اور ام ولد تھیں جن کے بطن سے عبد الرحمن اصغر پیدا ہوئے۔حضرت ام حکیم بنت حارث سے آپ کی اولاد فاطمہ تھیں۔فریقہ سے آپ کی اولاد زینب تھیں۔حضرت عاتکہ بنت زید : ان سے آپ کی اولا د عیاض ہے۔422 مشہور مستشرق ایڈورڈ گبن حضرت عمرؓ کی تعریف میں لکھتا ہے کہ حضرت عمر کی پر ہیز گاری اور عاجزی حضرت ابو بکر کی نیکیوں سے کم نہ تھی۔آپ کے کھانے میں جو کی روٹی اور کھجوریں ہی ہوتی تھیں۔پانی آپ کا مشروب تھا۔آپ نے لوگوں کو تبلیغ کی اس حال میں کہ آپ کا چوغہ بارہ جگہوں سے پھٹا ہوا تھا۔ایرانی گورنر جنہوں نے اس فاتح کو خراج عقیدت پیش کیا انہوں نے آپ کو مسجد نبوی