اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 5

تاب بدر جلد 3 5 حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہو گئے اور وہ ابھی تک اپنے شرک پر ہی قائم تھے اور ہمیں ان کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں اور تکالیف برداشت کرنی پڑتی تھیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا۔اے ام عبد اللہ ! لگتا ہے کہیں روانگی کا ارادہ ہے۔بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم ! ضرور ہم اللہ کی زمین میں نکل جائیں گے۔کہیں جارہے ہیں۔تلاش کرتے ہیں کہ کہاں جانا ہے۔بڑی وسیع زمین ہے اللہ کی۔تم لوگوں نے تو ہمیں بہت ستایا ہے اور ہم پر بہت ظلم ڈھائے ہیں یہاں تک کہ اللہ نے ہمارے لیے اب نجات کی راہ پیدا کر دی ہے۔ام عبد اللہ بیان کرتی ہیں کہ وہ کہنے لگے اللہ تمہارے ساتھ ہو۔ام عبد اللہ کہتی ہیں کہ جیسی رفت اس وقت میں نے ان پر طاری دیکھی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔میر اخیال ہے کہ ہمارے نکلنے نے انہیں غمگین کر دیا تھا۔ام عبد اللہ کہتی ہیں کہ جب عامر بن ربیعہ اپنے کام سے واپس آئے تو میں نے ان سے کہا اے عبد اللہ اکاش ابھی تم عمر کی حالت دیکھتے اور ہمارے لیے ان کی رفتت اور غم کو دیکھتے۔عامر بن ربیعہ نے کہا کیا تم ان کے اسلام لانے کی امید رکھتی ہو ؟ اس بات سے متاثر ہو گئی ہو گی کہ وہ اسلام لے آئیں گے۔وہ کہتی ہیں میں نے کہا ہاں۔اس پر اس نے یعنی عامر بن ربیعہ نے کہا کہ وہ کبھی اسلام قبول نہیں کرے گا۔جسے تم نے دیکھا ہے وہ اسلام قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ خطاب کا گدھا اسلام قبول کر لے۔ام عبد اللہ کہتی ہیں حضرت عمرؓ کی اسلام کے متعلق سختی اور شدت کو دیکھ کر اس سے مایوس ہوتے ہوئے عامر بن ربیعہ نے یہ بات کہی تھی۔14 اتنا سخت دشمن ہو تو کس طرح ہو سکتا ہے وہ اسلام قبول کرلے۔اس واقعہ کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنے انداز میں بیان فرمایا ہے۔”حضرت عمرؓ کو اسلام سے شدید دشمنی تھی۔“ آپ فرماتے ہیں لیکن ان میں روحانی قابلیت بھی موجود تھی یعنی باوجود آپ میں شدید غصہ ہونے کے باوجو در سول کریم صلی اہم اور آپ کے صحابہ کو تکالیف پہنچانے کے ان کے اندر جذبہ رقت بھی موجود تھا۔چنانچہ جب حبشہ کی طرف پہلی ہجرت ہوئی تو مسلمانوں نے نماز فجر سے پہلے مکہ سے روانگی کی تیاری کی تاکہ مشرک انہیں روکیں نہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔مکہ میں یہ رواج تھا کہ رات کو بعض رؤساء شہر کا دورہ کیا کرتے تھے تاکہ چوری وغیرہ نہ ہو۔“ جائزہ لیتے تھے گلیوں میں۔”اسی دستور کے مطابق حضرت عمرؓ بھی رات کو پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا۔ایک جگہ گھیر کا سب سامان بندھا پڑا ہے۔“ سارا سامان۔آپ آگے بڑھے۔ایک صحابیہ سامان کے پاس کھڑی تھیں۔اس صحابیہ کے خاوند کے ساتھ شاید حضرت عمرؓ کے تعلقات تھے۔اس لئے آپ نے اس صحابیہ کو مخاطب کر کے کہا۔بی بی یہ کیا بات ہے، مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی لمبے سفر پر جارہی ہو۔اس صحابیہ کا خاوند وہاں نہیں تھا۔اگر وہ وہاں ہو تا تو ہو سکتا تھا کہ مشرکین مکہ کی عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے حضرت عمرؓ کی یہ بات سن کر وہ کوئی بہانہ بنادیتا۔کہ جارہے ہیں کہ نہیں جار ہے۔یا تھوڑا سفر ہے یا کس جگہ جارہے ہیں یا قریب ہی کوئی جگہ