اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 226
ناب بدر جلد 3 226 حضرت عمر بن خطاب کی اس بشارت سے خوش ہو جائیں جو آپ کو رسول اللہ صلی علیکم کے صحابی ہونے کی وجہ سے حاصل ہے اور ابتدا میں اسلام لانے کے شرف کی وجہ سے ہے جسے آپ خوب جانتے ہیں۔پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے انصاف کیا پھر شہادت۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: میری تو یہ آرزو ہے۔یہ باتیں برابر برابر ہی رہیں۔نہ میرا مواخذہ ہو اور نہ مجھے ثواب ملے۔جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو اس کا نہ بند زمین سے لگ رہا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس لڑکے کو میرے پاس واپس لاؤ۔فرمانے لگے میرے بھتیجے اپنا کپڑا اٹھائے رکھو۔اس سے تمہارا کپڑا بھی زیادہ دیر چلے گا۔زمین سے گھسٹنے سے پھٹے گا نہیں اور یہ فعل تمہارے رب کے نزدیک تقویٰ کے زیادہ قریب ہو گا۔یعنی بعض دفعہ بلاوجہ تکبر پیدا ہو جاتا تھا۔اس زمانے میں لمبے کپڑے اس لیے بھی لوگ پہنتے تھے کہ امارت کی نشانی ہو تو انہوں نے کہا تکبر نہ پیدا ہو اور یہ تقویٰ کے قریب رہے۔پھر عبد اللہ بن عمر کو کہنے لگے دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے۔انہوں نے حساب کیا تو اس کو چھیاسی ہزار در ہم یا اس کے قریب پایا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر عمر کے خاندان کی جائیداد اس کو پورا کر دے تو پھر ان کی جائیداد سے اس کو ادا کر دو ورنہ بنو عدی بن کعب سے مانگنا۔اگر ان کی جائیدادیں بھی پوری نہ کریں تو قریش سے مانگنا اور اس کے سوا کسی کے پاس نہ جانا۔یہ قرض میری طرف سے ادا کر دینا۔حضرت عائشہ ، ام المومنین کے پاس جاؤ اور ان سے کہنا کہ عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور امیر المومنین نہ کہنا کیونکہ آج میں مومنوں کا امیر نہیں اور ان سے کہنا کہ عمر بن خطاب اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اسے اس کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایسا اس وقت کہا تھا جب آپ کو موت کا یقین ہو گیا تھا اور حضرت عائشہ کے لیے اس میں اشارہ تھا کہ امیر المومنین کہنے کی وجہ سے ڈریں نہیں۔چنانچہ عبد اللہ نے سلام کہا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔پھر ان کے پاس اندر گئے تو انہیں دیکھا کہ میٹھی ہوئی اور ہی تھیں۔حضرت عبد اللہ نے کہا: عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت مانگتے ہیں۔حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے رکھا ہوا تھا لیکن آج میں اپنی ذات پر ان کو مقدم کروں گی۔جب حضرت عبد اللہ لوٹ کر آئے تو حضرت عمرؓ سے کہا گیا کہ عبد اللہ بن عمرؓ آگئے ہیں۔انہوں نے کہا مجھے اٹھاؤ تو ایک شخص نے آپ کو سہارا دے کر اٹھایا۔آپ نے پوچھا کیا خبر لائے ہو ؟ عبد اللہ نے کہا امیر المومنین ! وہی جو آپ پسند کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے اجازت دے دی ہے۔کہنے لگے الحمد للہ ! اس سے بڑھ کر اور کسی چیز کی مجھے فکر نہ تھی۔جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا۔پھر سلام کہنا اور یہ کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگتا ہے۔اگر انہوں نے میرے لیے اجازت دی تو مجھے اندر حجرے میں تدفین کے لیے لے جانا اور اگر انہوں نے مجھے لوٹا دیا تو پھر مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں واپس لے جانا۔ام المومنین حضرت حفصہ آئیں اور دوسری