اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 225
حاب بدر جلد 3 225 حضرت عمر بن خطاب نے آپ پر وار کیا تو وہ بجھی دودھاری چھری لیے ہوئے بھاگا۔وہ کسی کے پاس سے دائیں اور بائیں نہ گزرتا مگر اس کو زخمی کرتا جاتا یعنی وہ جہاں سے بھی گزرتا اس خوف سے کہ لوگ یا کوئی پکڑنے والا اگر کوئی پکڑنے کی کوشش کر تا تو وہ اسی چھری سے اس پر بھی وار کرتا جاتا اور لوگوں کو زخمی کرتا جاتا تھا یہاں تک کہ اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کیا۔ان میں سے سات مر گئے۔مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ دیکھا تو اس نے کوٹ، بخاری میں اس جگہ بزنس کا لفظ آیا ہے جو اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سر ڈھانپنے والا حصہ بھی ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔لمبا چوغہ اور ساتھ ہی سر ڈھانپنے والی ٹوپی سی لگی ہوتی ہے۔لمبی ٹوپی کو بھی کہتے ہیں۔بہر حال وہ کوٹ اس پر پھینکا۔جب اس نے یقین کر لیا کہ وہ پکڑا گیا تو اس نے اپنا گلا کاٹ لیا۔اور حضرت عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے کیا اور راوی کہتے ہیں کہ جو حضرت عمرؓ کے قریب تھے انہوں نے بھی وہ دیکھا جو میں نے دیکھا اور مسجد کے اطراف میں جو تھے وہ نہیں جانتے تھے سوائے اس کے کہ انہوں نے حضرت عمر کی آواز کو غائب پایا اور وہ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کہنے لگے تو عبد الرحمن بن عوف نے لوگوں کو مختصر نماز پڑھائی۔پھر جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو حضرت عمررؓ نے کہا ابن عباس ! دیکھو مجھ کو کس نے مارا ہے ؟ حضرت ابن عباس نے کچھ دیر چکر لگایا پھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ مغیرہ کے غلام نے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا وہی جو کاریگر ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا ہاں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ اسے ہلاک کرے میں نے اس کے متعلق نیک سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میری موت ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں کی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو یعنی یہاں سے بھی ثابت ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھا۔اے ابن عباس ! تم اور تمہارا باپ پسند کرتے تھے کہ یہ جمی غلام مدینہ میں زیادہ سے زیادہ ہوں اور حضرت عباس کے پاس سب سے زیادہ غلام تھے۔حضرت ابن عباس نے کہا اگر آپ چاہیں تو میں کر گزروں۔یعنی اگر آپ چاہیں تو ہم بھی مدینہ میں موجود عجمی غلاموں کو قتل کر دیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں۔درست نہیں ہے۔کہا کہ خصوصاً جبکہ اب وہ تمہاری زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور تمہارے قبلے کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔بہت سے غلام ایسے بھی تھے جو مسلمان ہو گئے تھے۔پھر ہم انہیں یعنی حضرت عمر ہو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔ہم بھی ان کے ساتھ گھر میں چلے گئے۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ گویا مسلمانوں پر اس دن سے پہلے ایسی کوئی مصیبت نہیں آئی۔کوئی کہتا: کچھ نہیں ہو گا اور کوئی کہتا: مجھے ان کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں گے۔آخر ان کے پاس نبیذ لائی گئی اور انہوں نے اس کو پیاجو ان کے پیٹ سے نکل گئی۔پھر ان کے پاس دودھ لایا گیا انہوں نے اسے پیاوہ بھی آپ کے زخم سے نکل گیا تو لوگ سمجھ گئے کہ آپ کی وفات ہو جائے گی۔عمرو بن میمون کہتے ہیں پھر ہم ان کے پاس گئے اور دیگر لوگ بھی آئے جو ان کی تعریف کرنے لگے۔اور ایک نوجوان شخص آیا۔اس نے کہا امیر المومنین! آپ اللہ