اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 224
اصحاب بدر جلد 3 224 حضرت عمر بن خطاب نے مجھے دو مر تبہ چونچ ماری ہے۔چنانچہ میں نے یہ رویا اسماء بنت عمیس سے بیان کیا تو انہوں نے بتایا یعنی تاویل یہ کی کہ عجمیوں میں سے کوئی شخص مجھے قتل کرے گا۔377 حضرت عمر کی شہادت حضرت عمرؓ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کہ کس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اور آپ کس دن دفن ہوئے ؟ اس سلسلہ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔طبقات کبری میں لکھا ہے کہ حضرت عمر پر بدھ کے روز حملہ ہوا اور جمعرات کے دن آپ کی وفات ہوئی۔حضرت عمر کو 26/ ذوالحجہ 23 ہجری کو حملہ کر کے زخمی کیا گیا اور یکم محرم 24 ہجری صبح کے وقت آپ کی تدفین ہوئی۔عثمان آخنس کہتے ہیں کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ کی وفات 26 / ذوالحجہ بدھ کے روز ہوئی۔ابو مغشر کہتے ہیں کہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر کو 27 / ذوالحجہ کو شہید کیا گیا۔378 تاریخ طبری اور تاریخ ابن اثیر کے علاوہ اکثر مورخین کے نزدیک حضرت عمر 26/ ذوالحجہ 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور یکم محرم چو ہیں ہجری کو آپ کی وفات ہوئی اور اسی روز آپ کی تدفین ہوئی۔379 شہادت کے واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے۔عمر و بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو ان کے زخمی کیے جانے سے کچھ دن پہلے مدینہ میں دیکھا۔وہ حذیفہ بن یمان اور عثمان بن حنیف کے پاس رکے اور فرمانے لگے کہ عراق کی اراضی کے لیے جس کا انتظام خلافت کی جانب سے ان کے سپر د تھا تم دونوں نے کیا کیا ہے ؟ کیا تمہیں یہ اندیشہ تو نہیں کہ تم دونوں نے زمین پر ایسالگان مقرر کیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی۔ان دونوں نے کہا کہ ہم نے وہی لگان مقرر کیا ہے جس کی وہ طاقت رکھتی ہے۔یعنی زمین کی اتنی پوٹینشل (potential) ہے کہ اس میں سے اتنی فصل نکل سکے۔اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: پھر دیکھ لو کہ تم لوگوں نے زمین پر ایسا لگان تو مقرر نہیں کیا جس کی وہ طاقت نہ رکھتی ہو ؟ راوی کہتے ہیں ان دونوں نے کہا: نہیں۔حضرت عمر نے کہا اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں ضرور اہل عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کبھی کسی شخص کی محتاج نہ ہوں گی۔راوی نے کہا پھر اس گفتگو کے بعد حضرت عمر پر ابھی چوتھی رات نہیں آئی تھی کہ وہ زخمی ہو گئے۔راوی نے کہا کہ جس دن وہ زخمی ہوئے، میں کھڑا تھا۔میرے اور ان کے درمیان سوائے حضرت عبد اللہ بن عباس کے کوئی نہ تھا اور آپ کی عادت تھی کہ جب دو صفوں کے درمیان سے گزرتے تو فرماتے جاتے کہ صفیں سیدھی کر لو۔یہاں تک کہ جب دیکھتے کہ ان میں کوئی خلل نہیں رہ گیا تو آگے بڑھتے اور اللہ اکبر کہتے اور بسا اوقات نماز فجر میں سورہ یوسف یا سورۂ محل یا ایسی ہی سورہ پہلی رکعت میں پڑھتے تاکہ لوگ جمع ہو جائیں۔ابھی انہوں نے اللہ اکبر کہا ہی تھا کہ میں نے ان کو کہتے سنا کہ مجھے قتل کر دیا یا کہا مجھے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔جب اس نے یعنی حملہ آور