اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 4

باب بدر جلد 3 4 حضرت عمر بن خطاب ایک صف میں میں تھا اور دوسری صف میں حضرت حمزہ تھے یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوئے۔اس پر قریش نے مجھے اور حمزہ کو دیکھا اور ان کو ایسا شدید دکھ اور تکلیف پہنچی کہ اس طرح کی تکلیف پہلے کبھی نہیں پہنچی تھی۔چنانچہ اس دن رسول کریم صلی للی رام نے میر انام فاروق رکھا کیونکہ اسلام کو تقویت پہنچی اور حق اور باطل کے درمیان امتیاز پید ا ہو گیا۔8 ایوب بن موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان و دل پر قائم کر دیا اور وہ فاروق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے حق و باطل میں فرق کر دیا۔حلیہ مبارک حضرت عمر دراز قد اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔سر کے اگلے حصہ پر بال نہیں تھے۔رنگ سرخی مائل اور مونچھیں گھنی تھیں جن کے کناروں پر سرخی جھلکتی تھی اور آپ کے رخسار ہلکے پھلکے 10 زمانہ جاہلیت میں حضرت عمر کے جو شغل تھے ان کے بارے میں اس طرح ذکر ملتا ہے کہ گھر سواری اور کشتی حضرت عمر کے محبوب مشاغل میں سے تھے۔عکاظ کے میلے میں ہر سال گشتی کا مقابلہ عموماً حضرت عمرؓ ہی جیتا کرتے تھے۔نوجوانی میں عرب کے عام رواج کے مطابق اپنے والد کے اونٹ چرایا کرتے تھے۔11 اسلام سے قبل عرب میں لکھنے پڑھنے کا چنداں رواج نہیں تھا۔چنانچہ جب آنحضرت صلی الی یم مبعوث ہوئے تو قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے۔حضرت عمرؓ نے اس وقت اس زمانے میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا۔12 حضرت عمرؓ اشراف قریش میں سے تھے۔قبل از اسلام قریش کی طرف سے سفارت کا عہدہ آپ کے سپر د تھا اور قریش کا دستور تھا کہ جب ان کے درمیان یا ان کے اور غیروں کے درمیان کوئی جنگ ہوتی تو وہ حضرت عمر کو بطور سفیر بھیجتے تھے۔13 رقت قلبی کا ایک منظر اور اسلام دشمنی کی مثال جب حبشہ کی طرف بعض مسلمانوں نے ہجرت کی تو اس وقت حضرت عمرؓ کے جو واقف تھے ان کو ہجرت کرتے دیکھ کے حضرت عمر کا جو رد عمل تھا باوجود اس کے کہ آپ ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور سخت طبیعت کے بھی مالک تھے لیکن رد عمل نہایت رفت والا تھا۔اس بارے میں حضرت ام عبد اللہ بنت ابو حشم بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! جب ہم سر زمین حبشہ کی جانب روانہ ہونے لگے اور میرے شوہر عامر بن ربیعہ اپنے کسی کام سے گئے ہوئے تھے تو اسی دوران حضرت عمر بن خطاب آئے اور میرے پاس