اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 196

اصحاب بدر جلد 3 196 حضرت عمر بن خطاب میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اندر نماز پڑھی تو مسلمان اس جگہ کو اپنی عبادت گاہ بنالیں گے اور آپ نے 33866 33966 باہر نماز پڑھی۔پھر حضرت مصلح موعودؓ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا اور جس وقت آپ یروشلم گئے تو یروشلم کے پادریوں نے باہر نکل کر شہر کی کنجیاں آپ کے حوالے کیں اور کہا کہ آپ اب ہمارے بادشاہ ہیں۔آپ مسجد میں آکر دو نفل پڑھ لیں تاکہ آپ کو تسلی ہو جائے کہ آپ نے ہماری مقدس جگہ میں جو آپ کی بھی مقدس جگہ ہے نماز پڑھ لی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری مسجد میں اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ میں ان کا خلیفہ ہوں، کل کو یہ مسلمان اس مسجد کو چھین لیں گے اور کہیں گے کہ یہ ہماری مقدس جگہ ہے اس لئے میں باہر ہی نماز پڑھوں گا تا کہ تمہاری مسجد نہ چھینی جائے۔بہر حال سترہ ہجری میں رومیوں کی طرف سے ایک آخری کوشش ہوئی اور اس کوشش کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی شام پر مکمل فتح بھی ہوئی۔اسلامی فتوحات چونکہ روز بروز وسیع تر ہوتی جاتی تھیں اور حکومت اسلام کے حدود برابر بڑھتے جاتے تھے، ہمسایہ سلطنتوں کو خود بخود خوف پیدا ہوا کہ ایک دن ہماری باری بھی آتی ہے۔چنانچہ اہل جزیرہ جو عراق اور شام کے درمیان آباد تھے یزدجرد کے رے فرار ہو جانے کے بعد وہ اس کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے۔اس لیے انہوں نے ھر قل کو لکھا کہ اگر وہ مسلمانوں سے لڑنے اور انہیں ان کے مقبوضات سے نکال باہر کرنے کے لیے بحری راستے سے لشکر بھیجے تو وہ اس کی مدد کریں گے۔ھرقل نے اس مسئلہ پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس میں نقصان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔اہل جزیرہ نے ہر قل کو دوبارہ خط لکھا جس سے وہ سمجھ گیا کہ ان کے ارادے میں کوئی جھول نہیں ہے۔اس نے دیکھا کہ ان میں سے اکثر عیسائی عرب اپنے مذہب کا دامن مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں اور اس کی راہ میں لڑکے مر جانا بہتر سمجھتے ہیں۔ھر قل کو شام کے میدان کارزار سے دور ہوئے ایک برس سے زیادہ ہو گیا تھا اس لیے اب اس کے دل میں وہ پہلا سا خوف بھی باقی نہیں رہاتھا۔پھر اس نے دیکھا کہ بہت سے سرحدی علاقے ابھی اتنے مستحکم ہیں کہ مسلمانوں کے حملوں کی تاب لا سکتے ہیں، مقابلہ کر سکتے ہیں۔اس کا جنگی بیڑہ بھی ہنوز محفوظ تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ مسلمان سمندر اور سمندر کی طرف سے آنے والی ہر چیز سے ڈرتے ہیں۔اس سے اس کے ارادے میں قوت پیدا ہوئی اور وہ اہل جزیرہ کا مطالبہ تسلیم کر لینے پر مائل ہو گیا۔اس نے اپنے خط میں ان قبائل کو جوش دلایا۔ان کی ہمتیں بڑھائیں اور لکھا کہ جہازوں کو حکم دے دیا گیا ہے۔وہ فوج اور سامان جنگ لے کر اسکندریہ سے انطاکیہ پہنچ رہے ہیں۔ہر قل کا خط ملنے پر یہ قبائل اپنی تیس ہزار کی فوج لے کر جزیرہ سے حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرت ابو عبیدہ کو ان تمام باتوں کی اطلاع ملی۔انہوں نے حضرت خالد بن ولید کو مشورے کے لیے قتئرین سے بلایا اور ان دونوں سپہ سالاروں نے مل کر فیصلہ کیا کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے