اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 184

محاب بدر جلد 3 184 حضرت عمر بن خطاب اس لڑائی کا یہ واقعہ یا درکھنے کے قابل ہے کہ جس وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی عباس بن قیس جو ایک بہادر سپاہی تھے بڑی جانبازی سے لڑ رہے تھے۔اسی اثنا میں کسی نے ان کے پاؤں پر تلوار ماری اور ایک پاؤں کٹ کر الگ ہو گیا۔حباس کو خبر تک نہ ہوئی۔تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ میرے پاؤں کا کیا ہوا؟ جب پاؤں کی طرف دیکھا تو خیال آیا کہ پاؤں دیکھوں کہاں ہے تو پھر پتہ لگا کہ پاؤں غائب ہے۔ان کے قبیلے کے لوگ اس واقعہ پر ہمیشہ فخر کیا کرتے تھے۔رومیوں کے کس قدر آدمی مارے گئے ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔طبری اور آزدی نے لاکھ سے زیادہ بیان کیا ہے۔بلاذری نے ستر ہزار لکھا ہے۔مسلمانوں کی طرف سے تین ہزار کا نقصان ہوا جن میں عکرمہ، ضرار بن ازور ، ہشام بن عاصی، آبان بن سعید وغیرہ تھے۔قیصر انطاکیہ میں تھا کہ اس کو شکست کی خبر پہنچی۔اسی وقت اس نے قسطنطنیہ کی تیاری کی اور چلتے وقت شام کی طرف رُخ کر کے کہا کہ الوداع اے شام !“ ابوعبیدہ نے حضرت عمرؓ کو فتح کی خوشخبری کا خط لکھا اور ایک مختصر سی سفارت بھیجی جن میں حذیفہ بن یمان بھی تھے۔حضرت عمر یرموک کی خبر کے انتظار میں کئی دن سے سوئے نہیں تھے۔فتح کی خبر پہنچی تو دفعہ سجدے میں گرے اور خدا کا شکر ادا کیا۔315 یہ ایسا نمونہ تھا کہ جو دنیا کی تاریخ میں اور کسی بادشاہت نے نہیں دکھایا پر موک کے لیے حمص سے اسلامی فوج کو عارضی طور پر جانا پڑا تھا اس پر ان لوگوں سے لیا گیا جزیہ انہیں واپس کر دیا گیا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بیان کیا ہے کہ صحابہ نے جس وقت رومی حکومت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بڑھتے بڑھتے یروشلم پر جو عیسائیوں کی مذہبی جگہ ہے قابض ہو گئے اور پھر اس سے بھی آگے بڑھنا شروع ہوئے تو عیسائیوں نے یہ دیکھ کر کہ ان کا مذہبی مرکز مسلمانوں کے ہاتھ آگیا ہے ان کو وہاں سے نکالنے کے لئے آخری جد وجہد کا ارادہ کیا اور چاروں طرف مذہبی جہاد کا اعلان کر کے عیسائیوں میں ایک جوش پیدا کر دیا گیا۔اور بڑی بھاری فوجیں جمع کر کے اسلامی لشکر پر حملہ کی تیاری کی۔ان کے اس شدید حملہ کو دیکھ کر مسلمانوں نے جو اُن کے مقابلہ میں نہایت قلیل تعداد میں تھے عارضی طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور اسلامی سپہ سالار نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ دشمن اتنی کثیر تعداد میں ہے اور ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اس لشکر کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔اس لئے آپ اگر اجازت دیں تو جنگی صف بندی کو سیدھا کرنے اور محاذ جنگ کو چھوٹا کرنے کے لیے اسلامی لشکر پیچھے ہٹ جائے تا تمام جمعیت کو یکجا کر کے مقابلہ کیا جاسکے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ہم نے ان علاقوں سے جو فتح کر رکھے ہیں لوگوں سے ٹیکس بھی وصول کیا ہوا ہے۔اگر آپ ان علاقوں کو چھوڑنے کی اجازت دیں تو یہ بتائیں کہ اس ٹیکس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ محاذ کو چھوٹا کرنے اور اسلامی طاقت کو یکجا کرنے کے لئے پیچھے ہٹنا اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں لیکن