اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 174

ناب بدر جلد 3 174 حضرت عمر بن خطاب قیصر در حقیقت شام سے نکل جانے کا ارادہ کر چکا تھا لیکن ہر شہر اور ہر ضلع سے جوق در جوق عیسائی فریادی چلے آتے تھے۔قیصر کو سخت غیرت آئی اور نہایت جوش کے ساتھ آمادہ ہوا کہ اپنی شہنشاہی کا پورا زور عرب کے مقابلے میں صرف کر دیا جائے۔روم، قسطنطینیه، جزیره آرمینیا، ہر جگہ احکام بھیجے کہ تمام فوجیں انطاکیہ میں ایک تاریخ معین تک حاضر ہو جائیں۔تمام اضلاع کے افسروں کو لکھ بھیجا لو کہ جس قدر آدمی جہاں سے مہیا ہو سکیں روانہ کیے جائیں۔ان احکام کا پہنچنا تھا کہ فوجوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔انطاکیہ کے چاروں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی فوجوں کا ٹڈی دل پھیلا ہوا تھا۔بے شمار فوج تھی۔ย رض جزیہ واپس کر دیا گیا حضرت ابو عبیدہ نے جو مقامات فتح کر لیے تھے وہاں کے امراء اور رئیس ان کے عدل و انصاف کے اس قدر گرویدہ ہو گئے تھے کہ باوجود مخالفت مذہب کے انہوں نے خود اپنی طرف سے دشمن کی خبر لانے کے لیے جاسوس مقرر کر رکھے تھے۔چنانچہ ان کے ذریعہ سے حضرت ابوعبیدہ " کو تمام واقعات کی اطلاع ہوئی۔انہوں نے تمام افسروں کو جمع کیا اور کھڑے ہو کر ایک پر اثر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانو ! خدا نے تم کو بار بار جانچا اور تم اس کی جانچ پہ پورے اتر ہے۔چنانچہ اس کے صلہ میں خدا نے ہمیشہ تم کو مظفر و منصور رکھا، ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی۔اب تمہارا دشمن اس ساز و سامان سے تمہارے مقابلے کے لیے چلا ہے کہ زمین کانپ اٹھی ہے۔اب بتاؤ کیا صلاح ہے ؟ یزید بن ابی سفیان امیر معاویہ کے بھائی تھے وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میری رائے ہے کہ عورتوں اور بچوں کو شہر میں رہنے دیں اور ہم خود شہر کے باہر لشکر آرا ہوں۔اس کے ساتھ خالد اور عمرو بن عاص کو خط لکھا جائے کہ دمشق اور فلسطین سے چل کر مدد کو آئیں۔یہاں سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے کہ دمشق کی فتح پہلے تھی۔شر خبیل بن حَسَنَہ نے کہا کہ اس موقع پر ہر شخص کو آزادانہ رائے دینی چاہیے۔یزید نے جو رائے دی بلاشبہ خیر خواہی سے دی ہے لیکن میں اس کا مخالف ہوں۔شہر والے تمام عیسائی ہیں۔ممکن ہے کہ وہ تعصب سے ہمارے اہل و عیال کو پکڑ کر قیصر کے حوالے کر دیں یا خو د مار ڈالیں۔خود ہی ان کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ اس کی تدبیر یہ ہے کہ ہم عیسائیوں کو شہر سے نکال دیں تو ہمارے بیوی بچے محفوظ ہو جائیں گے۔شر خبیل نے اٹھ کر کہا کہ اے امیر ! تجھ کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں ہے۔ہم نے ان عیسائیوں کو اس شرط پر امن دیا ہے کہ وہ شہر میں اطمینان سے رہیں اس لیے نقض عہد کیونکر ہو سکتا ہے؟ ہم ایک عہد کر چکے ہیں۔کس طرح اس عہد کو توڑیں کہ ان کو شہر سے نکال دیں۔حضرت ابو عبیدہ نے اپنی غلطی تسلیم کی لیکن یہ بحث طے نہیں ہوئی کہ آخر کیا کیا جائے۔عام حاضرین نے رائے دی کہ حمص میں ٹھہر کے فوجی امداد کا انتظار کیا جائے۔ابوعبیدہ نے کہا کہ اتنا وقت کہاں ہے ؟ آخر یہ رائے ٹھہری کہ حمص کو چھوڑ کر دمشق روانہ ہوں، رض رض