اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 173

اصحاب بدر جلد 3 173 حضرت عمر بن خطاب سے شہادت مانگنے کی تلقین کی اور کہا کہ میں تم میں سب سے پیش پیش رہوں گا اور ہر گز پیچھے نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فتح سے نواز دے یا شہادت کی موت عطا فرمائے۔چنانچہ جب رومی اور مسلمان آپس میں ٹکرائے تو عبادہ بن صامت اپنے گھوڑے سے کود کر پیدل ہو گئے۔خمیر بن سعد انصاری نے آپ کو پیدل دیکھا تو امیر لشکر کے پیدل لڑنے کی بات مسلمانوں میں عام کر دی اور کہا کہ سب لوگ انہی کی طرح ہو جائیں۔چنانچہ سب نے رومیوں سے زبر دست معرکہ آرائی کی اور انہیں پست کر دیا۔بالآخر وہ بھاگ کر شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔جس طرح عربوں نے قیساریہ پر قبضہ کیا تھا اسی طرح غزہ بھی فتح کر لیا۔عہد صدیقی میں بھی مسلمان ایک دفعہ غزہ پر قبضہ کر چکے تھے لیکن بعد میں انہیں وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔جب یہ دونوں سر حدی مقام مسلمانوں کے زیر اقتدار آگئے تو حضرت عمرو بن عاص کو سمندر کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔313 جنگ یرموک جنگ پر موک کی تاریخ کے متعلق روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک روایت تو یہی ہے کہ یہ جنگ پندرہ ہجری کو لڑی گئی۔بعض کے نزدیک یہ تیرہ ہجری میں فتح 314 دمشق سے پہلے لڑی گئی تھی۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ کو سب سے پہلے جس جنگ میں فتح کی خوشخبری پہنچی وہ جنگ یر موک ہی تھی۔اس وقت حضرت ابو بکر کی وفات کو نہیں دن گزر چکے تھے۔بعض کے نزدیک فتح دمشق کی خوشخبری سب سے پہلے ملی تھی۔لیکن بہر حال دمشق کی فتح کی خوشخبری والی بات زیادہ صحیح لگتی ہے جو پہلے ہوئی۔شواہد تو یہی بتاتے ہیں کہ جنگ پر موک حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہی لڑی گئی تھی۔رومی جب شکست کھا کھا کر دمشق اور حمص وغیرہ سے نکلے تھے تو انکا کیہ پہنچے۔انطاکیہ شام کا سرحدی شہر ہے۔اور ہر قل سے فریاد کی کہ عرب نے تمام شام کو پامال کر دیا ہے۔ہر قل نے اس میں سے چند ہوشیار اور معزز آدمیوں کو دربار میں طلب کیا اور کہا کہ عرب تم سے زور میں ، جمعیت میں، ساز و سامان میں کم ہیں پھر تم ان کا مقابلہ کیوں نہیں کر سکتے ؟ کیوں نہیں مقابلے میں ٹھہر سکتے ؟ اس پر سب نے ندامت سے سر جھکا لیا۔کسی نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن ایک تجربہ کار بڑھے نے عرض کی کہ عرب کے اخلاق ہمارے اخلاق سے اچھے ہیں۔وہ رات کو عبادت کرتے ہیں۔دن کو روزے رکھتے ہیں۔کسی پر ظلم نہیں کرتے۔آپس میں ایک دوسرے سے برابری کے ساتھ ملتے ہیں۔اور ہمارا یہ حال ہے کہ شراب پیتے ہیں۔بدکاریاں کرتے ہیں۔اقرار کی پابندی نہیں کرتے۔اوروں پر ظلم کرتے ہیں اور اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے کام میں تو جوش ہے اور استقلال پایا جاتا ہے اور ہمارا جو کام ہوتا ہے ہمت اور استقلال سے خالی ہوتا ہے۔