اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 164
محاب بدر جلد 3 164 حضرت عمر بن خطاب علاقہ ہے جس میں بہت ساری بستیاں واقع ہیں۔انہوں نے اسے فتح کیا اور ایک سر یہ انگلی کارروائی کے لیے آگے بھیجا۔مَیسَنُون نامی چشمہ پر رومیوں اور سر یہ والوں کی مڈھ بھیڑ ہو گئی۔پھر دونوں میں لڑائی ہوئی۔اتفاق سے رومیوں میں سے سینان نام کا ایک آدمی بیروت کے عقبی حصہ سے مسلمانوں پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا اور مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد کو شہید کر دیا۔بیروت جو ہے یہ سمندر کے کنارے ملک شام کا ایک مشہور شہر تھا۔اسی لیے ان شہداء کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس چشمہ کا نام عین الشہداء پڑ گیا۔ابوعبیدہ نے دمشق پر یزید بن ابو سفیان کو اپنا قائم مقام بنایا اور یزید نے دخیہ بن خلیفہ کو ایک سریہ کے ساتھ تذمر روانہ کیا تا کہ وہاں فتح کا راستہ ہموار کریں۔تذمر شام کے علاقے میں ایک قدیم اور مشہور شہر ہے جو حلب سے پانچ دن کی مسافت پر واقع ہے۔یہ جس یزید کا ذکر ہو رہا ہے یہ حضرت ابو سفیان کے بیٹے تھے۔ہے۔299 اسی طرح ابوزهرا قشیری کو بقنیہ اور خوران بھیجا لیکن وہاں کے لوگوں نے صلح کر لی۔بقنيه دمشق کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔حَوْران دمشق کا ایک وسیع علاقہ تھا جس میں بہت ساری بستیاں اور کاشتکاری والی زمینیں تھیں۔شتر خبیل بن حَسَنَہ نے اردن کے دارالحکومت طبریہ کو چھوڑ کر بقیہ پورے ملک پر بذریعہ جنگ یعنی کہ جنگ ٹھونسی گئی تو جنگ کے ذریعہ سے قبضہ کر لیا اور طبر یہ والوں نے مصالحت کر لی۔حضرت خالد بقاع کے علاقے سے کامیاب ہو کر کوٹے۔بعلبك والوں نے آپ سے مصالحت کرلی اور آپ نے ان کے ساتھ معاہدہ تحریر کر دیا۔298 بعلبك بھی دمشق سے تین دن کی مسافت ( یہ تاریخ میں جو لکھا ہوا ہے) پر واقع ایک قدیم شہر یہاں دنوں کی مسافت سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں اونٹوں یا گھوڑوں کے ذریعہ سے (سفر کا جو ذریعہ تھا اس کے ذریعہ ) جو مسافت ہوتی تھی۔فیل ایک جگہ ہے۔اس کی فتح چودہ ہجری میں ہوئی۔حضرت ابو عبید ہا نے حضرت عمر کی خدمت میں تحریر کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہر قل حمص میں مقیم ہے اور وہاں سے دمشق فوجیں روانہ کر رہا ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا میرے لیے دشوار ہے کہ پہلے دمشق پر حملہ کروں یا فخل پر۔فخل بھی شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔حضرت عمرؓ نے جو ابا تحریر فرمایا: پہلے دمشق پر حملہ کر کے اسے فتح کرو کہ وہ شام کا قلعہ ہے اور اس کا صدر مقام ہے۔ساتھ ہی فیحل میں بھی سوار دستے بھیج دو جو انہیں تمہاری طرف نہ بڑھنے دیں۔اگر دمشق سے پہلے فخل فتح ہو جائے تو بہتر ورنہ دمشق فتح کر لینے کے بعد تھوڑی سی فوج وہاں چھوڑ دینا اور تمام سرداروں کو اپنے ساتھ لے کر فحل روانہ ہو جانا اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں فحل کو فتح کرا دے تو خالد اور تم حمص چلے جانا اور شتر خبیل اور عمر و کو اردن اور فلسطین بھیج دینا۔حضرت عمر کا جو خط تھا، جب یہ حضرت ابو عبیدہ کو ملا تو انہوں نے فوج کے دس افسروں کو جن میں سب سے نمایاں ابو الأغور سُلْمی تھے فیل بھیج دیا اور خود حضرت خالد بن ولیڈ کے ساتھ دمشق روانہ ہو گئے۔رومی فوجوں نے مسلمانوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اپنے گردو پیش کی زمین میں بحیرہ طبریہ اور