اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 161
صحاب بدر جلد 3 161 حضرت عمر بن خطاب حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ : ”حضرت عمررؓ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ان کی خلافت کے ایام میں وہ منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بے اختیار ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔يَا سَارِيَةُ الْجَبَلُ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ۔یعنی اے سَارِیہ ! پہاڑ پر چڑھ جا۔اے ساریہ ! پہاڑ پر چڑھ جا۔چونکہ یہ فقرات بے تعلق تھے لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے یہ کیا کہا؟ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا کہ ایک جگہ ساریہ جو اسلامی لشکر کے ایک جرنیل تھے کھڑے ہیں اور دشمن ان کے عقب سے اس طرح حملہ آور ہے کہ قریب ہے کہ اسلامی لشکر تباہ ہو جائے۔اس وقت میں نے دیکھا تو پاس ایک پہاڑ تھا کہ جس پر چڑھ کر وہ دشمن کے حملہ سے بچ سکتے تھے۔اس لیے میں نے ان کو آواز دی کہ وہ اس پہاڑ پر چڑھ جاویں۔ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ساریہ کی طرف سے بعینہ اسی مضمون کی اطلاع آئی اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس وقت ایک آواز آئی جو حضرت عمر کی آواز سے مشابہ تھی جس نے ہمیں خطرہ سے آگاہ کیا اور ہم پہاڑ پر چڑھ کر دشمن کے حملہ سے بچ گئے۔“ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی زبان اس وقت ان کے اپنے قابو سے نکل گئی تھی اور اس قادرِ مطلق ہستی کے قبضہ میں تھی جس کے لئے فاصلہ اور دوری کوئی شئے ہے ہی نہیں۔2904 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس بارے میں فرماتے ہیں: 291<< ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ایسے الہام ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثرت ثابت ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساریہ کے لشکر کی خطر ناک حالت سے با علام الہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اور کیا تھا اور پھر انکی یہ آواز کہ يَا سَارِيَهِ الْجَبَل الجبل۔مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرتِ غیبی سے ساریہ اور اس کے لشکر کو دور در از مسافت سے سنائی دینا اگر خوارق عادت نہیں تھی تو اور کیا چیز تھی۔پھر فتح گزمان کا ذکر ہے جو 23 ہجری میں ہوئی۔حضرت سہیل بن عدی کے ہاتھوں گزمان فتح ہوا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ بن تبدیل کے ہاتھوں فتح ہوا۔292 حضرت سہیل کے ہر اول دستے پر نسیر بن عمر و عجلی تھے۔ان کے مقابلے کے لیے اہل کرمان جمع ہو گئے۔وہ اپنی سرزمین کے قریب علاقے میں جنگ کرتے رہے۔آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں منتشر کر دیا اور مسلمانوں نے ان کا راستہ روک لیا۔نئیر نے ان کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کر دیا۔اسی طرح حضرت سہیل بن عدی نے دیہاتیوں کے دستے کے ذریعہ دشمن کے راستے کو جیرفت مقام تک روک لیا۔حضرت عبد اللہ بھی شیر کے راستے وہاں پہنچے اور حسب منشا اس مقام پر انہیں بہت سارے