اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 141
حاب بدر جلد 3 141 حضرت عمر بن خطاب معرکوں کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔یعنی قادسیہ کا معرکہ ، جلولاء کا معرکہ اور نہاوند کا معرکہ اور نهاوند کی فتح اپنے نتائج کے لحاظ سے اس قدر اہم تھی کہ مسلمانوں میں فتح الفتوح کے نام سے معروف ہو گئی تھی یعنی تمام فتوحات سے بڑھ کر فتح۔خاوند کی یہ جنگ پہلی روز بر دست شکستوں کے بعد ایرانیوں کی طرف سے ایسے حملے کی آخری کوشش تھی۔اس معرکے کی تفاصیل یہ ہیں کہ شاہ ایران یزدجرد نے جو اب مرو میں مقیم تھا یا بروایت ابو حنیفہ دینوری قسم میں رہائش پذیر تھا بڑی سر گرمی سے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے لشکر جمع کرنا شروع کیا اور اپنے خطوط سے خراسان سے لے کر سندھ تک ملک میں ایک حرکت پیدا کر دی اور ہر طرف سے ایرانی فوج امڈ کر یہ کاوند میں جمع ہونے لگی۔نهاوند ایران کا ایک شہر ہے جو کرمان شاہ کے مشرق میں واقع ہے اور صوبہ همدان کے دارالحکومت ہمدان سے تقریباً ستر کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔نهاوند مکمل طور پر پہاڑوں کے درمیان ایک شہر تھا۔234 حضرت سعد نے اس لشکر کی اطلاع حضرت 232 233 عمر کی خدمت میں مدینہ ارسال کر دی۔235 چند روز بعد جب خود حضرت سعد کو حضرت عمرؓ نے ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا اور حضرت سعد کو مدینہ جانے کا موقع ملا تو حضرت سعد نے پھر یہ زبانی اطلاعات حضرت عمر کی خدمت میں پیش کر دیں۔236 حضرت سعد کو معزول کر کے یہ اہم عہدہ دربارِ خلافت کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کو دیا گیا۔حضرت عمار کو اس ایرانی جنگی کارروائی کے سلسلہ میں جو اطلاعات ملتی رہیں وہ آپ مدینہ بھجواتے رہے۔237 حضرت عمر نے مجلس مشاورت منعقد کی اور منبر پر کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس میں فرمایا: اے قوم عرب ! اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ تمہاری تائید کی اور افتراق کے بعد تمہیں متحد کر دیا اور فاقہ کشی کے بعد تمہیں غنی کر دیا۔اور جس میدان میں بھی تمہیں دشمن سے مقابلہ کرنا پڑا اس نے تمہیں فتح دی۔پس تم نہ کبھی ماندہ ہوئے نہ مغلوب۔اور اب شیطان نے کچھ لشکر جمع کیے ہیں تاکہ خدا کے نور کو بجھائے اور یہ عمار بن یاسر کا خط ہے کہ قَوْمِسْطَبَرِستان، دُنْبَاوَند، جُرْجَان، اصفهان ، ثم ، هَمَذَانَ ، مَاهَيْن اور مَاسَبَذَان کے باشندے اپنے بادشاہ کے گرد جمع ہو رہے ہیں تاکہ تمہارے بھائیوں کے مقابلے کے لیے جو کو فہ اور بصرہ میں ہیں نکلیں اور ان کو اپنے وطن سے نکال کر خود تمہارے ملک پر حملہ آور ہوں۔اے لوگو! اس بارے میں مجھے اپنا مشورہ دو۔238 یہ معاملہ اہم ہے۔میں نہیں پاتا کہ آپ لوگ زیادہ باتیں کریں اور آپس میں اختلاف رائے