اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 138

اصحاب بدر جلد 3 138 حضرت عمر بن خطاب حکومت کو سزا دینی چاہیے۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ ایک جزوی معاملہ ہے اس لیے اس کو اسلام نے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق عمل کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔قوم اپنے تمدن اور حالات کے مطابق جس طریق کو زیادہ مفید دیکھے اختیار کر سکتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں طریق ہی خاص خاص حالات میں مفید ہوتے ہیں۔جنگ جندی سابور 225 ایک جنگ جنگ جندی سابور ہے۔جب حضرت ابو سبرہ بن دُھم ساسانی بستیوں کی فتح سے فارغ ہوئے تو آپ لشکر کے ساتھ آگے بڑھے اور جندی ساہور میں پڑاؤ کیا۔جندی سابور خوزستان کا ایک شہر تھا۔بہر حال ان دشمنوں کے ساتھ صبح شام جنگی معر کے ہوتے رہے لیکن یہ اپنی جگہ ڈٹے رہے یہاں تک کہ مسلمانوں کی طرف سے کسی نے امان دینے کی پیشکش کر دی۔دشمن فصیل میں تھا۔جب موقع ملتا تھا نکل کے حملہ کر تا تھا۔تو جب ایک عام مسلمان نے پیشکش کی تو انہوں نے فوراً فصیل کے دروازے کھول دیے۔جانور باہر نکل پڑے، بازار کھل گئے اور لوگ ادھر اُدھر نظر آنے لگے۔مسلمانوں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمیں امان دے دی ہے اور ہم نے اسے قبول کر لیا ہے۔ہم جزیہ دیں گے اور آپ ہماری حفاظت کریں گے۔مسلمانوں نے کہا ہم نے تو ایسا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم جھوٹ نہیں کہہ رہے۔پھر مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے سے استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ مکنف نامی ایک غلام نے یہ کیا ہے۔جب اس کے متعلق حضرت عمرؓ سے استفسار کیا گیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وفاداری کو بڑی اہمیت دی ہے۔تم وفادار نہیں ہو سکتے جب تک اس عہد کو پورا نہ کر وجو عہد کر لیا۔چاہے غلام نے کیا اس کو پورا کر و۔جب تک تم شک میں ہو انہیں مہلت دو اور ان کے ساتھ وفاداری کرو۔چنانچہ مسلمانوں نے عہد و پیمان کی تصدیق کی اور واپس لوٹ آئے۔226 یہ معرکه خوزستان کی فتوحات کا خاتمہ تھا۔227 حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس طرح کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ: ”حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک حبشی غلام نے ایک قوم سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ فلاں فلاں رعایتیں تمہیں دی جائیں گی۔جب اسلامی فوج گئی تو اس قوم نے کہا ہم سے تو یہ معاہدہ ہے۔فوج کے افسر اعلیٰ نے اس معاہدہ کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل کی تو بات حضرت عمرؓ کے پاس گئی۔انہوں نے فرمایا مسلمان کی بات جھوٹی نہ ہونی چاہئے خواہ غلام ہی کی ہو۔“ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دشمن فوج گھر گئی 2286