اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 139
باب بدر جلد 3 139 حضرت عمر بن خطاب اور اس نے سمجھ لیا کہ اب ہماری نجات نہیں ہے۔پہلے جو واقعہ بیان ہوا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔اسلامی کمانڈر دباؤ سے ہمارا قلعہ فتح کر رہا ہے۔اگر اس نے فتح کر لیا تو ہم سے مفتوح ملک والا معاملہ کیا جائے گا۔ہر مسلمان مفتوح ہونے اور صلح کرنے میں فرق سمجھتا تھا۔مفتوح کے لیے تو عام اسلامی قانون جاری ہو تا تھا اور صلح میں جو بھی وہ لوگ ( دوسرا فریق) شرط کر لیں یا جتنے زائد حقوق لے لیں، لے سکتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے جس سے نرم شرائط پر صلح ہو جائے۔چنانچہ ایک دن ایک حبشی مسلمان پانی بھر رہا تھا اس کے پاس جا کر انہوں نے کہا۔کیوں بھئی! اگر صلح ہو جائے تو وہ لڑائی سے اچھی ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا کہ ہاں اچھی ہے۔وہ حبشی غیر تعلیم یافتہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر کیوں نہ اس شرط پر صلح ہو جائے کہ ہم اپنے ملک میں آزادی سے رہیں اور ہمیں کچھ نہ کہا جائے۔ہمارے مال ہمارے پاس رہیں اور تمہارے مال تمہارے پاس رہیں۔وہ کہنے لگا بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیے۔اب اسلامی لشکر آیا تو دشمن نے کہا ہمارا تو تم سے معاہدہ ہو گیا ہے۔مسلمانوں نے کہا کہ معاہدہ کہاں ہوا ہے اور کس افسر نے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے۔ہمیں کیا پتہ کہ تمہارے کون افسر ہیں اور کون نہیں۔ایک آدمی یہاں پانی بھر رہا تھا اس سے ہم نے یہ بات کی اور اس نے ہمیں یہ کہہ دیا۔مسلمانوں نے کہا دیکھو ایک غلام نکلا تھا اس سے پوچھو کیا ہوا؟ اس حبشی غلام سے کہا تو اس نے بتایا کہ ہاں مجھ سے یہ بات ہوئی تھی۔تو مسلمانوں نے کہا کہ وہ تو غلام تھا۔اسے کس نے فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا۔اس پر دشمنوں نے کہا کہ ہمیں کیا پتہ کہ یہ تمہارا افسر ہے یا نہیں۔ہم اجنبی لوگ ہیں ہم نے سمجھا کہ یہی تمہارا جرنیل ہے ، ہوشیاری دکھائی۔اس افسر نے کہا کہ میں تو نہیں مان سکتا لیکن میں یہ واقعہ حضرت عمر کو لکھتا ہوں۔حضرت عمر کو جب یہ خط ملا تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ کے لیے یہ اعلان کر دو کہ کمانڈر انچیف کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک مسلمان زبان دے بیٹھے تو میں اس کو جھوٹا کر دوں۔اب وہ حبشی جو معاہدہ کر چکا ہے ہ تمہیں ماننا پڑے گا۔ہاں آئندہ کے لیے اعلان کر دو کہ سوائے کمانڈر انچیف کے اور کوئی کسی قوم سے معاہدہ نہیں کر سکتا۔229 وہ حضرت عمرؓ نے جو ایران کو فتح کیا ہے تو اس کی کیا وجوہات تھیں، آپنے کیوں مجبور ہوئے۔ان کا بیان اس طرح ہوا ہے کہ حضرت عمر کی قلبی خواہش تھی کہ اگر عراق اور افواز کے معرکوں پر ہی اس خونریز جنگ کا خاتمہ ہو جائے تو بہتر ہے۔جنگیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔دشمن حملہ کر رہا ہے۔دشمن کو ایک دفعہ ختم کر دیا، ان کی طاقت کو روک دیا اب یہیں ختم ہو جانا چاہیے۔آپ نے بار بار اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ کاش ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان کوئی ایسی روک ہو کہ نہ وہ ہماری طرف آسکیں نہ ہم ان کے پاس جا سکیں مگر ایرانی حکومت کی مسلسل جنگی کارروائیوں نے آپؐ کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔سترہ ہجری میں محاذ جنگ سے مسلمان سرداران لشکر کا ایک وفد حضرت عمر کی خدمت میں