اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 111
اصحاب بدر جلد 3 111 حضرت عمر بن خطاب ایسا خطر ناک تھا کہ مدینہ تک اس سے ہل گیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ والوں کو جمع کیا اور فرمایا: اب مدینہ اور ایران کے درمیان کوئی روک باقی نہیں۔مدینہ بالکل ننگا ہے اور ممکن ہے کہ دشمن چند دنوں تک یہاں پہنچ جائے۔اِس لئے میں خود کمانڈر بن کر جانا چاہتا ہوں۔باقی لوگوں نے تو اس تجویز کو پسند کیا مگر حضرت علیؓ نے کہا کہ اگر خدانخواستہ آپ کام آگئے تو مسلمان تتر بتر ہو جائیں گے اور ان کا شیرازہ بالکل منتشر ہو جائے گا اس لئے کسی اور کو بھیجنا چاہئے آپ خود تشریف نہ لے جائیں۔اس پر حضرت عمر نے حضرت سعد کو جو شام میں رومیوں سے جنگ میں مصروف تھے لکھا کہ تم جتنا لشکر بھیج سکتے ہو بھیج دو کیونکہ اس وقت مدینہ بالکل ننگا ہو چکا ہے اور اگر دشمن کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ مدینہ پر قابض ہو جائے گا۔196❝ جنگ بویب / يوم الاعشار ایک جنگ جنگ بویب کہلاتی ہے جو تیرہ ہجری میں اور بعض مؤرخین کے نزدیک یہ سولہ ہجری میں ہوئی۔جسر کے مقام پر یا جسم کی جنگ میں جس کا پہلے گذشتہ خطبہ میں ذکر ہو چکا ہے، مسلمانوں کی شکست کے بعد حضرت منی نے حضرت عمر کو جنگ کے بارے میں اطلاع بھجوائی۔حضرت عمر نے قاصد کو فرمایا کہ اپنے اصحاب کے پاس واپس جاؤ اور ان کو کہو کہ اسلامی لشکر جہاں ہے وہیں ٹھہرارہے۔جلد ہی امداد آتی ہے۔197 جسر کی جنگ میں شکست سے حضرت عمر کو سخت تکلیف پہنچی۔آپ نے تمام عرب میں خطیب بھیجے جنہوں نے پر جوش تقریروں سے سارے عرب میں جوش بھر دیا۔عرب کے قبائل اس قومی معرکہ میں شامل ہونے کے لیے جوق در جوق آنا شروع ہو گئے۔ان میں عیسائی قبائل بھی تھے۔صرف مسلمان ہی نہیں تھے بلکہ عیسائی قبائل بھی تھے۔حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کا ایک لشکر عراق روانہ کیا اور حضرت مثنی نے بھی عراق کے سرحدی مقامات سے فوج اکٹھی کر لی۔رستم کو جب اس کی خبر ملی تو اس نے مہران کے ہمراہ ایک لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا۔حیرہ ایک مقام ہے ، ایک شہر ہے جو کوفہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے اس کے قریب ٹویب، یہ بویب جو ہے یہ کوفہ کے پاس ایک نہر ہے جو دریائے فرات سے نکلتی ہے۔اس مقام پر دونوں حریف صف آرا ہوئے۔یہ جنگ رمضان کے مہینہ میں لڑی گئی۔اس مقام کے قریب ہی بعد میں کوفہ شہر آباد ہو ا تھا۔ایرانی جرنیل مہران نے کہا ہم دریا عبور کر کے آئیں یا تم آؤ گے؟ حضرت مٹی نے کہا تم پار کر کے آؤ۔پچھلی جنگ میں مسلمان در یا پار کر کے گئے تھے۔اس دفعہ انہوں نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ ان کو ، ایرانیوں کو کہا کہ تم آؤ۔حضرت معنی نے اپنے لشکر کی تنظیم اور صف آرائی کی اور پھر ان کے الگ الگ حصوں پر تجربہ کار سر دار مقر رکیے اور اپنے مشہور گھوڑے شموس نامی پر سوار ہو کر اسلامی لشکر کی صفوں کا چکر کاٹ کر معائنہ کیا اور ہر جھنڈے