اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 91

اصحاب بدر جلد 3 91 حضرت عمر بن خطاب 161 آدمی آگے بڑھا اور اس نے کہا جناب کی عمر ؟ عبد الرحمن نے کہا میری عمر ا تم میری عمر کا اندازہ اس سے لگا لو کہ جب رسول کریم صلی ا ہم نے اسامہ بن زید کو دس ہزار صحابہ کا سردار بنا کر بھیجا تھا جس میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے تو جو عمر اس وقت اسامہ بن زید کی تھی اس سے ایک سال میری عمر زیادہ ہے۔یہ سنتے ہی جیسے اوس پڑ جاتی ہے وہ سب شرمندہ ہو کے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب تک یہ لڑکا یہاں رہے خبر دار تم نہ بولنا ورنہ یہ کھال ادھیڑ دے گا۔چنانچہ انہوں نے بڑے عرصہ تک گورنری کی اور کوفہ والے ان کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔پھر محاصل کا نظام ہے۔حضرت عمرؓ نے عراق اور شام کی فتوحات کے بعد خراج کے نظم و نسق کی طرف توجہ کی۔جو زمینیں بادشاہوں نے مقامی باشندوں سے جبر ا چھین کر درباریوں اور امراء کو دی تھیں وہ مقامی لوگوں کو واپس دی گئیں اور ساتھ ہی حضرت عمرؓ نے حکم جاری فرما دیا کہ اہل عرب جو ان ملکوں میں پھیل گئے ہیں زراعت نہیں کریں گے یعنی کہ عرب لوگ جو ہیں وہ زراعت نہیں کریں گے۔اس کا یہ فائدہ تھا کہ جو زراعت کے متعلق تجربہ مقامی لوگوں کا تھا عرب اس سے واقف نہ تھے۔ہر علاقے کی زراعت کا اپنا مقامی طریقہ ہے تو اس لیے یہ حکم تھا کہ باہر کے جو آئے ہوئے ہیں وہ زراعت نہیں کریں گے بلکہ زراعت مقامی لوگ ہی کریں گے۔162 164 خراج پہلے لوگوں سے زبر دستی لیا جاتا تھا۔حضرت عمرؓ نے خراج کے قواعد مرتب کرنے کے بعد خراج کی وصولی کا طریق بھی نہایت نرم کر دیا اور نئی ترامیم کیں۔ذمیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔خراج کی وصولی کے وقت با قاعدہ دریافت فرماتے، کسی سے زیادتی تو نہیں ہوئی ؟ ذمی رعایا سے جو پارسی یا عیسائی تھے ان سے رائے طلب کرتے اور ان کی آرا کا لحاظ کیا کرتے تھے۔2 زراعت کی ترقی کے لیے حضرت عمر نے بے آباد زمینوں کے متعلق فرمایا کہ جو ان کو آباد کرے گا وہ اس کی ملکیت ہو گی۔اس کے لیے تین سال کا وقت مقرر کیا گیا۔نہریں جاری کی گئیں۔محکمہ آبپاشی قائم کیا گیا جو تالاب وغیرہ تیار کر وانے کا کام بھی کرتا تھا۔163 تاکہ زراعت بہتر ہو۔4 محکمہ قضا کے اجرا کے بارے میں روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے باقاعدہ قضا کے صیغہ کا اجر ا فرمایا۔تمام اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔حضرت عمرؓ نے قضا کے متعلق قانونی احکامات بھی صادر فرمائے۔165 قاضیوں کے انتخابات میں ماہرین فقہ کو منتخب کیا جاتا لیکن حضرت عمر اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا امتحان بھی لیتے تھے۔قاضیوں کی گراں قدر تنخواہیں مقرر فرماتے تاکہ کوئی غلط فیصلہ نہ کر دے۔دولت مند اور معزز شخص کو قاضی مقرر فرماتے تا کہ فیصلہ کے وقت کسی کے رعب میں نہ آ سکے۔حضرت عمرؓ نے عدالت میں مساوات اور انصاف کا لحاظ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ایک دفعہ حضرت ابی