اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 90

محاب بدر جلد 3 90 حضرت عمر بن خطاب 160 باریک کپڑے نہیں پہنے گا۔چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا۔دروازے پر دربان مقرر نہیں کرے گا۔ضرورت مندوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رکھے گا۔یہ ہدایات تمام عاملین کے لیے تھیں اور لوگوں میں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں۔عاملین مقرر کرنے کے بعد ان کے مال و اسباب کی جانچ کی جاتی تھی۔اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی جس کے بارے میں وہ تسلی نہ کروا سکتے تو اس کا مواخذہ کیا جاتا اور زائد مال بیت المال میں جمع کروالیا جاتا۔عاملین کو حکم تھا کہ حج کے موقع پر لازمی جمع ہوں۔وہاں پبلک عدالت لگتی جس میں کسی شخص کو کسی عامل سے شکایت ہوتی تو فوراً اس کا ازالہ کیا جاتا۔عاملین کی شکایات پیش ہو تیں ان کی تحقیقات کے متعلق بھی ایک عہدہ قائم تھا جس پر کبار صحابہ ہوتے جو تحقیقات کے لیے جاتے اور اگر شکایت سچ ہوتی تو عاملین کا مواخذہ کیا جاتا۔0 عاملین کی شکایت کے متعلق حضرت عمرؓ کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کا ہی واقعہ ہے۔کوفے کے لوگ بڑے باغی تھے اور وہ ہمیشہ اپنے افسروں کے خلاف شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ فلاں قاضی ایسا ہے۔فلاں میں یہ نقص ہے اور فلاں میں وہ نقص ہے۔حضرت عمران کی شکایات پر حکام کو بدل دیتے اور اور افسر مقرر کر کے بھیج دیتے اور ان افسروں کو بدل دیتے۔دوسرے افسر مقرر کر کے بھیج دیتے۔بعض لوگوں نے حضرت عمرؓ کو یہ بھی کہا کہ یہ طریق درست نہیں ہے۔اس طرح بدلتے رہیں گے تو وہ شکایتیں کرتے رہیں گے ، آپ بار بار افسر کو نہ بدلیں۔مگر حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں افسروں کو بدلتا ہی چلا جاؤں گا یہاں تک کہ کوفے والے خود ہی تھک جائیں۔جب اسی طرح ایک عرصہ تک ان کی طرف سے شکایتیں آتی رہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا اب میں کوفہ والوں کو ایک ایسا گورنر بھجواؤں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا۔یہ گور نرانیس سال کا ایک نوجوان تھا جو حضرت عمرؓ نے سیدھا کرنے کے لیے بھیجا۔اس انیس سالہ نوجوان کا نام عبد الرحمن بن ابی لیلی تھا۔جب کوفے والوں کو پتہ لگا کہ انہیں سال کا ایک لڑکا ان کا گورنر مقرر ہو کر آیا ہے تو انہوں نے کہا آؤ ہم سب مل کر اس سے مذاق کریں۔کوفہ کے لوگ شریر اور شوخ تو تھے ہی۔انہوں نے بڑے بڑے جبہ پوش لوگوں کو جو ستر ستر ، اسی استی، توے توے سال کے تھے اکٹھا کیا اور فیصلہ کیا کہ ان سب بوڑھوں کے ساتھ شہر کے تمام لوگ مل کر عبد الرحمن کا استقبال کرنے کے لیے جائیں اور مذاق کے طور پر اس سے سوال کریں کہ جناب کی عمر کیا ہے ؟ اس سے اس کی عمر پوچھیں۔جب وہ جواب دے گا تو خوب ہنسی اڑائیں گے۔اس کا مذاق اڑائیں گے کہ چھو کر اہمارا گورنر بن گیا ہے۔چنانچہ اسی سکیم کے مطابق وہ شہر سے دو تین میل باہر اس کا استقبال کرنے کے لیے آئے۔ادھر سے گدھے پر سوار عبد الرحمن بن ابی لیلی بھی آ نکلے۔کوفہ کے تمام لوگ صفیں باندھ کر کھڑے تھے اور سب سے انگلی قطار بوڑھے سرداروں کی تھی۔جب عبد الرحمن بن ابی لیلی قریب پہنچے تو ان لوگوں نے پوچھا کہ آپ ہی ہمارے گورنر مقرر ہو کر آئے ہیں اور عبد الرحمن آپ ہی کا نام ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر ان میں سے ایک بہت بوڑھا