اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 89
محاب بدر جلد 3 89 حضرت عمر بن خطاب حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبی بن کعب، حضرت زید بن ثابت شامل ہوتے تھے۔مجلس کے انعقاد کا یہ طریقہ تھا کہ پہلے ایک منادی اعلان کرتا تھا کہ الصلوةُ جامعة یعنی سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔جب لوگ جمع ہو جاتے تو حضرت عمر شمسجد نبوی میں جا کر دور کعت نماز پڑھتے تھے۔نماز کے بعد منبر پر چڑھ کر خطبہ دیتے تھے اور بحث طلب امر پیش کیا جاتا تھا۔اس پر بحث ہوتی تھی۔معمولی اور روز مرہ کے کاروبار میں اس مجلس کے فیصلے کافی سمجھے جاتے تھے لیکن جب کوئی اہم امر پیش آتا تھا تو مہاجرین اور انصار کا اجلاس عام ہوتا تھا اور سب کے اتفاق سے وہ امر طے پاتا تھا۔فوج کی تنخواہ، دفتر کی ترتیب، عمال کا تقرر، غیر قوموں کی تجارت کی آزادی اور ان پر محصول کی تشخیص۔غرض اس قسم کے بہت سے معاملات ہیں جو شوریٰ میں پیش ہو کر طے پاتے تھے۔مجلس شوریٰ کا اجلاس اکثر خاص خاص ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت ہو تا تھا۔اس کے علاوہ ایک اور مجلس تھی وہاں روزانہ انتظامات اور ضروریات پر گفتگو ہوتی تھی۔یہ مجلس ہمیشہ مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی اور صرف مہاجرین صحابہ اس میں شریک ہوتے تھے۔صوبہ جات اور اضلاع کی روزانہ خبریں جو دربار خلافت میں پہنچتی تھیں۔حضرت عمر اس مجلس میں بیان کرتے تھے اور کوئی بحث طلب امر ہو تا تھا تو اس میں لوگوں سے رائے لی جاتی تھی۔مجلس شوری کے ارکان کے علاوہ عام رعایا کو انتظامی امور میں مداخلت حاصل تھی۔صوبہ جات اور اضلاع کے حاکم اکثر رعایا کی مرضی سے مقرر کیے جاتے تھے بلکہ بعض اوقات بالکل انتخاب کا طریقہ عمل میں آتا تھا۔کوفہ، بصرہ اور شام میں جب عمال خراج مقرر کیے جانے لگے تو حضرت عمر نے ان تینوں صوبوں میں احکام بھیجے کہ وہاں کے لوگ اپنی اپنی پسند سے ایک ایک شخص انتخاب کر کے بھیجیں جو ان کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ دیانت دار اور قابل ہو۔عاملین کی تقرری اور ان کے لیے کیا ہدایات دیں؟ حضرت عمرؓ کس طرح ہدایات دیتے تھے ؟ اس بارے میں لکھا ہے کہ اہم خدمات کے لیے عہدیداروں کی تقرری شوری کے ذریعہ کی جاتی۔جس پر سب ارکان اتفاق کر لیتے اُس کا انتخاب کر لیا جاتا۔بعض اوقات صو بہ یا ضلع کے حاکم کو حکم بھیجتے کہ نص زیادہ قابل ہو اس کا انتخاب کر کے بھیجو۔چنانچہ انہی منتخب لوگوں کو حضرت عمرؓ عامل مقرر فرما دیتے۔حضرت عمرؓ نے عاملین کی زیادہ تنخواہیں مقرر فرمائی تھیں۔یہ بھی بڑی حکمت ہے تا کہ ایمانداری سے یہ لوگ اپنے کام کر سکیں، کوئی دنیاوی لالچ نہ ہو۔حضرت عمر عہدے داروں کو یہ نصائح فرماتے کہ یاد رکھو! میں نے تم لوگوں کو امیر اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجابلکہ امام بنا کر بھیجا ہے تاکہ لوگ تمہاری تقلید کریں۔مسلمانوں کے حقوق ادا کرنا۔ان کو زدو کوب نہیں کرنا کہ وہ ذلیل ہوں۔سزائیں نہیں دینی بلکہ ان کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔کسی کی بے جا تعریف نہیں کرنی کہ وہ فتنوں میں پڑیں۔ان کے لیے اپنے دروازے ہمیشہ بند نہ رکھنا کہیں طاقتور کمزوروں کو نہ کھا جائیں۔اپنے آپ کو کسی پر ترجیح نہ دینا کہ یہ ان پر ظلم ہے۔جو شخص عامل مقرر ہوتا اس سے یہ عہد لیا جاتا کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہو گا۔159