اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 72

محاب بدر جلد 3 72 حضرت عمر بن خطاب کیا بات ہے۔اس نے کہا کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے۔کھانے کو کچھ پاس نہیں۔بچے بہت بے تاب ہوئے تو خالی ہنڈیا چڑھا دی تا کہ بہل جائیں اور سو جائیں۔حضرت عمرؓ یہ بات سن کر فورآمدینہ کی طرف واپس ہوئے۔آٹا، گھی ، گوشت اور کھجوریں لیں اور ایک بوری میں ڈال کر اپنے خادم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دے۔اس نے کہا حضور میں موجود ہوں میں اٹھا لیتا ہوں۔آپ نے جواب دیا: بے شک تم اس وقت اٹھا کر لے چلو گے مگر قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا ! یعنی ان کی روزی کا خیال رکھنا میرا فرض تھا اور اس فرض میں مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے۔اس لیے اس کا کفارہ یہی ہے کہ میں خود اٹھا کر یہ اسباب لے جاؤں اور ان کے گھر پہنچاؤں۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں اس واقعہ سے کوئی یہ مطلب نہ نکال لے کہ ضرورت مندوں کو جو وظائف دیے جاتے ہیں یہ سستی پیدا کرنے کے لیے ہیں بلکہ ہر ضرور تمند کو وظیفہ دینا ہے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ اسلام جہاں غریبوں کی خبر گیری کا حکم دیتا ہے وہاں جیسا کہ پہلے اس ضمن میں بیان ہوا ہے کہ سستی اور کاہلی کو بھی مٹاتا ہے۔وظائف اس لیے نہیں دیے جاتے کہ سستی اور کاہلی پیدا ہو۔ان وظائف کی یہ غرض نہ تھی کہ لوگ کام چھوڑ کر بیٹھیں بلکہ صرف مجبوروں کو یہ وظائف دیے جاتے تھے ورنہ سوال سے لوگوں کو روکا جاتا تھا۔حضرت عمر مانگنے والوں کو مانگنے سے روکنے کے لیے بھی بہت سخت اقدام کیا کرتے تھے۔یہی نہیں کہ صرف بھوکا دیکھ لیا تو کھانا کھلا دیا، کوئی مانگنے آیا تو اس کو دے دیا بلکہ مانگنے والا اگر صحت مند ہے تو آپ بڑا سخت قدم اٹھایا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک سائل کو دیکھا اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی۔آٹا اس کی جھولی میں پڑا ہوا تھا اور وہ مانگ رہا تھا۔آپ نے اس سے آٹا لے کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور اس کی جھولی خالی کر دی اور فرمایا کہ اب مانگ۔اسی طرح یہ ثابت ہے کہ سوالیوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔4 یعنی تم اچھے بھلے انسان ہو۔تمہارا مانگنے سے کیا کام ہے۔محنت کرو، کماؤ اور کھاؤ اور یہ سبق دیا کہ دوبارہ مانگو گے تو دوبارہ تمہارے سے یہی سلوک ہو گا کہ تمہارے سے چھین کے جانوروں کے آگے ڈال دیا جائے گا۔اکثر مانگنے والے یہ ایک مثال دے کر اس پر زور دیتے ہیں کہ دیکھو حضرت عمر کس طرح خیال رکھتے تھے لیکن مانگنے سے جس سختی سے اسلام نے روکا ہے اس کو نہیں دیکھتے اور اس پر آنحضرت میای لیلی و کم کا عمل بھی ہے اور حضرت عمرؓ نے بھی پھر اس کو جاری کیا، اس کو نہیں دیکھتے۔134 پھر اس واقعہ کو ایک اور جگہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے یوں بیان فرمایا کہ: ”حضرت عمررؓ کو دیکھ لو۔اُن کے رعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کا نپتے تھے۔قیصر و کسریٰ کی حکومتیں تک لرزہ بر اندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی عورت کے بچوں کو بھوکا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لاد کر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر ان کے پاس پہنچا اور اس وقت تک واپس نہیں لوٹا جب تک کہ اس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر ان بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے۔“135