اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 60

محاب بدر جلد 3 60 حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان نے کہا کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی بہتر ہے اور ہم میں ان جیسا کوئی نہیں۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے دونوں اصحاب سے فرمایا۔جو کچھ میں نے تم دونوں سے کہا ہے اس کا ذکر کسی اور سے نہ کرنا اور اگر میں عمر کو چھوڑتا ہوں تو عثمان سے آگے نہیں جاتا ( یعنی آپ کے نزدیک دونوں ایسے لوگ تھے جو خلافت کا حق ادا کرنے والے تھے) اور ان کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ تمہارے امور کے متعلق کوئی کمی نہ کریں۔اب میری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے امور سے علیحدہ ہو جاؤں اور تمہارے اسلاف میں سے ہو جاؤں۔حضرت ابو بکر کی بیماری کے دنوں میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ نے حضرت عمر کو لوگوں پر خلیفہ بنا دیا ہے حالانکہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں لوگوں سے کس طرح سلوک کرتے ہیں اور اس وقت کیا حال ہو گا جب وہ تنہا ہوں گے ؟ اور آپ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور آپ سے رعیت کے بارے میں پوچھے گا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ مجھے بٹھاؤ۔تو انہوں نے آپ کو سہارا دے کر بٹھایا اور آپ نے کہا۔کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو ؟ جب میں اپنے رب سے ملوں گا اور وہ مجھ سے پوچھے گا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے بندوں میں سے بہترین کو تیرے بندوں پر خلیفہ بنایا ہے۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عثمانؓ کو علیحدگی میں بلایا تاکہ وہ حضرت عمرؓ کے متعلق وصیت لکھ دیں۔پھر فرمایا لکھو بسم الله الرحمن الرحیم۔یہ ابو بکر بن ابو قحافہ کی وصیت مسلمانوں کے نام ہے اتنا کہہ کر آپ پر غشی طاری ہو گئی اور حضرت عثمانؓ نے اپنی طرف سے لکھا کہ میں نے تم پر عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کیا ہے اور میں نے تمہارے متعلق خیر میں کمی نہیں کی۔پھر حضرت ابو بکر کو افاقہ ہوا تو فرمایا مجھے پڑھ کر سناؤ کیا لکھا ہوا ہے۔حضرت عثمان نے سنایا تو حضرت ابو بکر نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا میر اخیال ہوا تو نے فرمایا میرا ہے کہ تم ڈر گئے کہ اگر میں اس بیہوشی میں وفات پا جاؤں تو کہیں لوگوں میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے۔حضرت عثمان نے کہا ہاں یہی بات ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا اللہ تمہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزا عطا کرے۔115 حضرت عثمان نے حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے کا جو فقرہ اپنی طرف سے لکھا تھا اس پر حضرت ابو بکر نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ محمد بن ابراہیم بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو علیحدگی میں بلایا اور فرمایا لکھو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ یہ عہد نامہ ابو بکر بن ابو قحافہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ہے اور اما بعد راوی کہتے ہیں پھر آپ پر یعنی حضرت ابو بکر پر غشی طاری ہو گئی اور آپ بے ہوش ہو گئے۔اس کے بعد اس طرح جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے حضرت ابو بکر ہوش میں آئے۔جب افاقہ ہوا تو وہی باتیں ہوئیں اور حضرت عثمان سے پڑھ کر سنانے کے لیے کہا۔اس کو سن کر پھر جیسا کہ بیان ہوا ہے حضرت ابو بکر نے اللہ اکبر کہا۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ تمہیں اسلام