اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 48
اصحاب بدر جلد 3 48 حضرت عمر بن خطاب بلکہ میرا کامل ایمان ہے۔حضرت حاطب نے اس کی یقین دہانی کرائی تو آنحضرت صلی اللہ کریم نے اسے تسلیم فرمایا لیکن حضرت عمرؓ نے کہا یار سول اللہ ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے دیجیے۔آپ نے فرمایا دیکھو وہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے اور تمہیں کیا علم کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جھانک کر دیکھا جو بدر میں شریک ہوئے اور فرمایا جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کر کے تم سے در گزر کر دیا ہے۔94 کر تم دیا ایک اور واقعہ ہے جس کا حضرت عمرؓ سے براہ راست تو تعلق نہیں ہے لیکن ضمناً حضرت عمر کا ذکر آتا ہے اس لیے بیان کرتا ہوں۔حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں کہ جب حسنین کا واقعہ ہوا تو میں نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مشرک شخص سے لڑ رہا ہے اور ایک اور مشرک ہے جو دھوکا دے کر چپکے سے اس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کو مار ڈالے۔یہ دیکھ کر میں اس شخص کی طرف جلدی سے اپ کا جو ایک مسلمان پر اس طرح دھو کے سے جھپٹنا چاہتا تھا۔اس نے مجھے مارنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے اس کو کاٹ ڈالا۔اس کے بعد اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس زور سے مجھے بھینچا کہ میں بے بس ہو گیا۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا وہ ڈھیلا پڑ گیا اور میں نے اس کو دھکا دیا اور اس کو مار ڈالا۔ادھر یہ حال ہوا کہ مسلمان شکست کھا کر بھاگ گئے۔میں بھی ان کے ساتھ بھاگ گیا۔پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کے ساتھ ہیں۔میں نے ان سے کہا لوگوں کو کیا ہوا کہ بھاگ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے ، حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ کا منشا۔پھر لوگ لوٹ کر رسول اللہ صل اللی کم کے پاس آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مقتول کے متعلق یہ ثبوت پیش کر دے کہ اس نے اس کو قتل کیا ہے تو اس مقتول کا سامان اس کے قاتل کا ہو گا۔میں اٹھا کہ اپنے مقتول کے متعلق کوئی شہادت ڈھونڈوں مگر کسی کو نہ دیکھا جو میری شہادت دیتا اور میں بیٹھ گیا۔پھر مجھے خیال آیا اور میں نے اس مقتول کا واقعہ رسول اللہ صلی المیہ کم سے ذکر کیا۔آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا اس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر کرتے ہیں میرے پاس ہیں۔آپ ان ہتھیاروں کی بجائے ان کو کچھ دے دلا کر راضی کر دیں۔حضرت ابو بکر نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ مالی یہ کلم قریش کے ایک معمولی سے شخص کو تو سامان دلا دیں اور اللہ کے شیر وں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی ا کرم کی طرف سے لڑ رہا ہو۔حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یم کھڑے ہوئے اور آپ نے مجھے وہ سامان دلا دیا۔میں نے اس سے کھجوروں کا ایک چھوٹا سا باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد پیدا کیا۔5 95 حضرت عمر کی اعتکاف کی نذر حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ جب ہم حسنین سے لوٹے تو حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی علیم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی ہوئی تھی یعنی اعتکاف بیٹھنے کی۔