اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 47
حاب بدر جلد 3 47 حضرت عمر بن خطاب دیا ہے۔مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ رہیں گے۔پس یہود میں سے جس کے پاس رسول اللہ صلی علیہم کا کو ئی عہد ہے تو وہ اسے لے کر میرے پاس آئے تا کہ میں اس کے لیے اسے نافذ کر دوں اور جس کے پاس رسول اللہ صلی علی کمر کا کوئی عہد نہیں وہ جلا وطنی کے لیے تیاری کرلے۔اگر کسی نے کوئی عہد لیا ہوا ہے اور آنحضرت صلیالی یکم نے رہنے کا کوئی وعدہ کیا تھا تو ٹھیک ہے اس کو میں پورا کروں گا لیکن اگر کوئی نہیں تو پھر تمہیں یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے انہیں جلاوطن کر دیا جن کے پاس رسول اللہ صلی الی یکم کا کوئی عہد نہ تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت مقداد بن اسود خیبر میں اپنامال دیکھنے گئے اور وہاں پہنچ کر ہم الگ الگ اپنے اموال کے پاس گئے۔رات کے وقت مجھ پر حملہ کیا گیا جبکہ میں اپنے بستر میں سو رہا تھا۔میرے بازوؤں کے جوڑ کہنیوں سے اتر گئے۔جب صبح ہوئی تو میرے دونوں ساتھی چیختے ہوئے میرے پاس آئے اور دونوں نے پوچھا تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔وہ کہتے ہیں ان دونوں نے میرے بازو درست کیسے پھر مجھے لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ یہودیوں کا فعل ہے۔پھر وہ یعنی حضرت عمر لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو ! رسول اللہ صلی علی کریم نے خیبر کے یہودیوں سے اس شرط پر معاملہ کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔اب یہود نے حضرت عبد اللہ بن عمرہ پر حملہ کیا اور اس کے بازوؤں کے جوڑ نکال دیے جیسا کہ تم تک یہ بات پہنچ چکی ہے۔اس سے پہلے انصاری پر بھی ان لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ہم کو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ وہ ان کے ہی ساتھی ہیں۔وہاں ان کے سوا ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔پس جس کا خیبر میں کوئی مال ہے تو وہ اسے سنبھال لے کیونکہ میں یہود کو نکالنے والا ہوں اور آپ نے انہیں نکال دیا۔عبد اللہ بن مَكْنَف بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے یہود کو خیبر سے نکالا تو خود انصار اور مہاجرین کے ساتھ سوار ہوئے اور حضرت جبار بن صخر اور حضرت یزید بن ثابت بھی ان کے ساتھ نکلے۔حضرت جبار اہل مدینہ کے لیے پھلوں کا اندازہ لگانے والے اور ان کے محاسب تھے۔ان دونوں نے خیبر کو اس کے اہل کے درمیان اسی تقسیم کے موافق تقسیم کیا جو پہلے سے تھی۔حضرت حاطب کا ایک خط 93 حضرت حاطب کے حوالے سے ایک عورت کو خط دے کر مکہ روانہ کرنے کا یہ واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے جب خط دے کر خفیہ طور پر مکہ کے مشرکوں کو آنحضرت صلی الم کے بعض ارادے کے بارے میں خبر بھیجی اور آنحضرت صلی یہ تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ہوئی اور حضرت علی کو آپ نے بھیجا اور وہ عورت راستے میں پکڑی گئی۔اس کے بعد جب حاطب سے آنحضرت صلی علیم نے پوچھا تو انہوں نے اپنا عذر پیش کیا اور اپنے ایمان کے بارے میں بتایا کہ ایمان میں میرے کوئی لغزش نہیں ہے