اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 46

اصحاب بدر جلد 3 46 حضرت عمر بن خطاب کے میدان میں اترے تو آپ نے جھنڈا حضرت عمر بن خطاب کو دیا۔آگے اس کی کتب سیرت میں سے وضاحت ہے کہ سب سے پہلی مرتبہ غزوہ خیبر میں پرچم کا ذکر ملتا ہے ، جھنڈے یعنی بڑے پرچم کا اس سے قبل صرف چھوٹے جھنڈے ہوتے تھے۔نبی کریم صلی الہ وسلم کا پرچم سیاہ رنگ کا تھا جو ام المومنین حضرت عائشہ کی چادر سے بنایا گیا تھا۔اس کا نام عقاب تھا اور آپ کا ایک جھنڈ اسفید رنگ کا تھا جو آپ نے حضرت علی کو عطا فرمایا۔ایک جھنڈے کا پہلے ذکر ہوا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا جو ام المومنین کی چادر سے بنایا گیا تھا۔پھر دوسرے جھنڈے کا ذکر ہے جو سفید رنگ کا تھا یہ حضرت علی ہو آپ نے عطا فرمایا۔ایک پرچم آپ نے حضرت حباب بن منذر کو اور ایک حضرت سعد بن عبادہ کو عطا فرمایا۔نیز جب آنحضرت صلی علیکم خیبر میں تشریف فرما ہوئے تو آپ کو دردِ شقیقہ ہو گیا اور آپ باہر تشریف نہ لا سکے۔اس موقع پر پہلے آپ نے حضرت ابو بکر کو اپنا پر چم عطافرمایا پھر وہی پر چم حضرت عمر کو عطا فرمایا۔اس روز شدید لڑائی ہوئی تا ہم مسلمان قلعہ فتح نہ کر سکے تو آپ صلی علی کرم نے فرمایا: کل میں اس شخص کو جھنڈ ا دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔چنانچہ اگلے روز وہ پر چم آنحضرت صلی ال یکم نے حضرت علی کو عطا فرمایا جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔92 الله سة م الله سة ابن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب زہری سے دریافت کیا کہ حضور نے خیبر کی کھجوروں کے باغات کس شرط پر یہودیوں کو عطا کیے تھے ؟ زہری نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللی یکم نے لڑائی کے بعد خیبر پر فتح حاصل کی تھی اور خیبر مال فے میں سے تھا جو اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی علیم کو عطا فرمایا۔اس کا پانچواں حصہ رسول اللہ صلی علیکم کے لیے تھا اور اسے آپ نے مسلمانوں میں تقسیم فرمایا اور یہود میں سے جو لوگ لڑائی کے بعد جلا وطنی پر آمادہ ہوتے ہوئے اپنے قلعوں سے نیچے اترے تو رسول اللہ صلی المی یوم نے ان کو بلایا اور بلا کر فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ اموال تمہارے سپر د کیے جاسکتے ہیں اس شرط پر کہ تم ان میں کام کرو اور اس کا پھل ہمارے اور تمہارے درمیان تقسیم ہو گا۔اس جائیداد کا بٹائی پر کام ہو جائے گا اگر تم چاہو تو یہاں رہنا۔اور میں تم لوگوں کو ٹھہراؤں گا جہاں اللہ تم لوگوں کو ٹھہرائے گا تو یہود نے قبول کر لیا۔یہود ان میں کام کرتے رہے۔رسول اللہ صلی اللی کم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے کہ وہ ان باغات کے پھل تقسیم کرتے اور یہود کے لیے پھلوں کا اندازہ کرنے میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔یہ نہیں کہ اچھا والا پھل اپنے لیے رکھ لیا بلکہ انصاف سے تقسیم ہوتی تھی۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی تو حضرت ابو بکر نے بھی رسول اللہ صلی علیکم کے بعد اسی طرح یہود سے معاملہ رکھا جس طرح رسول اللہ صل اللی کم کیا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدا میں یہی معاملہ رکھا پھر حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے جس بیماری میں آپ کی وفات ہوئی تھی اس میں فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ رہیں گے۔حضرت عمرؓ نے اس کی تحقیق کی اور جب یہ بات ثابت ہو گئی۔تب انہوں نے خیبر کے یہود کو لکھا کہ اللہ عزوجل نے تمہاری جلا وطنی کے بارے میں حکم