اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 39
حاب بدر جلد 3 39 حضرت عمر بن خطاب قضا کے معنی بھی معلوم نہیں۔جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے “ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مخالف کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہو گئی تھیں۔چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہو سکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔اور مغرب اور عشاء۔ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور اکٹھی کر کے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو رد کرتی ہیں اور صرف یہی ثابت ہو تا عشاء الله 81❝ ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔صلح حدیبیہ اور حضرت عمر صلح حدیبیہ کے تعلق میں حضرت عمرؓ کے کردار کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ: رسول اللہ صلی علیکم نے حضرت عمر بن خطاب کو بلایا تا کہ وہ انہیں مکہ بھیجیں اور وہ اشراف قریش کو بتائیں کہ حضور صلی الی کمک کس لیے تشریف لائے ہیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھ کو قریش سے اپنی جان کا خوف ہے کیونکہ وہ میرے ان سے عداوت کے حال سے واقف ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ میں قریش کا کتنادشمن ہوں۔میں جس قدر ان پر سختی کرتا ہوں اور میری قوم بنو عدی بن کعب میں سے بھی کوئی مکہ میں نہیں ہے جو مجھے بچائے۔اس لیے انہوں نے کچھ تھوڑا سا انقباض کا اظہار کیا۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اس موقع پر آنحضور صلی الم کی خدمت میں یہ بھی عرض کیا یار سول اللہ ! اگر آپ پسند فرماتے ہیں تو میں ان کے پاس چلا جاتا ہوں تا ہم رسول اللہ صلی اللی کم نے کچھ نہ فرمایا۔حضرت عمرؓ نے مزید عرض کیا کہ میں آپ کو ایسا شخص بتاتا ہوں جو قریش کے نزدیک مجھ سے زیادہ معزز ہے یعنی حضرت عثمان بن عفان۔تب حضور صلی اللی کم نے عثمان کو طلب کیا اور ابوسفیان اور دیگر اشراف قریش کے پاس بھیجا تا کہ عثمان ان کو خبر دیں کہ حضور جنگ کے واسطے نہیں آئے۔آپ صرف زیارت کعبہ اور اس کی حرمت کی تعظیم کی خاطر تشریف لائے ہیں۔82 83 اس کی یہ تفصیل حضرت عثمان کے ضمن میں بیان ہو چکی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ”جب صلح حدیبیہ کی شرائط لکھی جارہی تھیں تو اس