اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 38
تاب بدر جلد 3 38 حضرت عمر بن خطاب ہے اور آپ صلی این کم نے نماز کے لیے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی۔پھر آپ نے اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔77 جنگ خندق اور نماز۔۔۔اس بارے میں یہ بحث چلتی ہے کہ غزوہ خندق کے دوران نبی کریم صلی ا یکم اور آپ کے صحابہ کتنی نمازیں نہیں پڑھ سکے تھے۔اس بارے میں متفرق روایات ملتی ہیں۔چنانچہ ایک روایت یہ ہے کہ حضرت جابر نے بیان کیا کہ حضرت عمر خندق کے دن ان کافروں کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا مجھے عصر کی نماز نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔کہتے تھے اس پر ہم نظحان میں اتر گئے اور انہوں نے سورج غروب ہونے کے بعد نماز پڑھی۔پھر انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی۔یہ بھی بخاری میں ہی روایت ہے۔یعنی پہلی میں یہ ہے کہ آنحضرت صلی میں کم بھی ساتھ تھے۔78 پھر حضرت علی نے بیان کیا کہ نبی صلی علیم نے خندق کے موقع پر فرمایا: 79 اللہ ان کافروں کے لیے ان کے گھر اور ان کی قبریں آگ سے بھر دے۔انہوں نے ہمیں مصروف رکھا اور صلوۃ وسطی یعنی درمیانی نماز کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔19 حضرت علی کی یہ روایت بھی بخاری کی ہے۔80 پھر ابو عبیدہ بن عبد اللہ اپنے والد سے یہ روایت کرتے ہیں کہ : خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی کم کو چار نمازوں سے روکے رکھا یہاں تک کہ رات کا حصہ جتنا اللہ نے چاہا گزر گیا۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے حضرت بلال کو ارشاد فرمایا تو انہوں نے اذان دی۔پھر آپ نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور ظہر کی نماز پڑھائی۔پھر اقامت کا ارشاد فرمایا اور عصر کی نماز پڑھائی۔پھر آپ صلی علیکم نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔پھر آپ صلی علیہ کم نے اقامت کا ارشاد فرمایا اور عشاء کی نماز پڑھائی۔یہ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام روایات کو ضعیف قرار دیتے ہوئے صرف ایک روایت کو درست قرار دیا ہے جس میں عصر کی نماز معمول سے تنگ وقت میں پڑھنے کا ذکر ہے۔چنانچہ جنگ خندق میں آنحضور صلی الم کی چار نمازیں قضا کرنے پر پادری فتح مسیح کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودنے کے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں اول آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے نادان قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔“ چھوڑنے کو نہیں کہتے۔”ترک نماز کا نام قضا ہر گز نہیں ہو تا۔اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے “ یعنی نماز فوت ہو گئی۔”اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بے وقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی تک