اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 37

اصحاب بدر جلد 3 37 حضرت عمر بن خطاب یہ فضول باتیں نہ کیا کرو کہ ذرا ذراسی بات پہ لڑائی جھگڑے شروع کر دو۔جب عبد اللہ بن اُبی نے یہ سنا، وہ بھی وہاں ساتھ تھا تو اس نے کہا کہ انہوں نے تو ایسا کر لیا کہ ایک مہاجر نے انصار کی کمر پر مارا، چاہے ایک تھپڑ ہی مارا ہو، دو ہتھڑ ہی مارا ہو لیکن اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو ضرور معزز ترین شخص (نعوذ باللہ ) ذلیل ترین شخص کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔اس پر حضور صلی ا ولم نے فرمایا کہ جانے دو۔لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد علی ایم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔74 اس واقعہ کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں بیان ہوئی ہے جو میں چھوڑ تا ہوں۔یہ پہلے بیان کر چکا ہوں۔بہر حال عبد اللہ بن ابی کی آخری زمانے کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ اس کے بعد عبد اللہ بن ابی جب کوئی ایسی ویسی بات کہتا اسی کی قوم اس کو سخت سست کہتی تھی۔رسول اللہ صلی علیم کو جب اس کے حالات کا علم ہوا تو آپ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا کہ اے عمر! جس دن تم نے مجھ سے اس کے قتل کرانے کے واسطے کہا تھا، اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں اگر میں اس کو قتل کرا دیتا تو لوگ ناک منہ چڑھاتے اور یہی لوگ جو ناک منہ چڑھانے والے تھے ، اب اگر انہی لوگوں کو میں اس کے قتل کا حکم کروں تو وہ خود اس کو قتل کر دیں گے۔دیکھو صبر کی وجہ سے اور حالات سامنے آنے کی وجہ سے وہی جو اس کے حمایتی تھے آج اس کے خلاف ہو گئے ہیں اور یہ اس کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے جان لیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللی کم کی بات برکت کے لحاظ سے میری بات سے بہت عظیم تھی۔75 رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کی نماز جنازہ اور حضرت عمر رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ جب آنحضرت صلی کم پڑھنے لگے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ سے منع کیا ہے۔رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں ان کے لیے استغفار کروں یا نہ کروں۔پس رسول اللہ صلی الم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کی نماز جنازہ پڑھنے کی کلیۂ ممانعت فرما دی تو پھر آنحضرت صلی اللہ ہم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانی بند کر دی تھی۔76 حضرت عمر اور جنگ خندق ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب غزوہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے۔انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے تو عصر کی نماز بھی نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔نبی کریم صلی علیکم نے فرمایا: بخدا ! میں نے بھی نہیں پڑھی۔اس پر ہم اٹھ کر بطحان کی طرف گئے۔بطحان بھی مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی