اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 33
اصحاب بدر جلد 3 33 حضرت عمر بن خطاب مسلمانوں کو برا بھلا کہنے لگے اور کہنے لگے کہ محمد صلی علیہ کی بادشاہت کے طلبگار ہیں اور آج تک کسی نبی نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا انہوں نے اٹھایا۔خود بھی زخمی ہوئے اور ان کے اصحاب بھی زخمی ہوئے۔اور کہتے تھے کہ اگر تمہارے وہ لوگ جو قتل ہوئے ہمارے ساتھ رہتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی علیم سے ان منافقین کے قتل کی اجازت چاہی جو اس طرح یہ باتیں کر رہے ہیں تو آپ صلی علیکم الله سة نے فرمایا: کیا وہ اس شہادت کا اظہار نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔کلمہ تو پڑھتے ہیں ناں یہ لوگ۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کیوں نہیں۔یہ تو کہتے ہیں لیکن ساتھ منافقانہ باتیں بھی کر رہے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا لیکن یہ تلوار کے خوف سے اس طرح کہتے ہیں۔پس ان کا معاملہ ظاہر ہو گیا ہے۔اب جب ان کے دل کی باتیں نکل گئی ہیں اور اللہ نے ان کے کینوں کو ظاہر کر دیا ہے تو پھر ان سے انتقام لینا چاہیے۔ان کو سزا دینی چاہیے۔آپ صلی الی ایم نے فرمایا کہ مجھے اس کے قتل سے منع کیا گیا ہے جو اس شہادت کا اظہار کرے۔68 جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا مجھے ایسے شخص کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔69 رض غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے بعد رسول اللہ صلی علیکم واپس مدینہ تشریف لے آئے اور کفار نے مکہ کی راہ لی مگر آپ کو قریش کی دوبارہ لشکر کشی کی خبر ملی تو آپ صحابہ کے ساتھ حمراء الاسد مقام تک تشریف لے گئے۔حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔اس غزوہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو تحریر فرمایا ہے وہ اس طرح ہے ، کچھ حصہ بیان کر تاہوں کہ بظاہر لشکرِ قریش نے مکہ کی راہ لے لی تھی۔یہ اندیشہ تھا کہ ان کا یہ فعل مسلمانوں کو غافل کرنے کی نیت سے نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک لوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں۔لہذا اس رات کو مدینہ میں پہرہ کا انتظام کیا گیا اور آنحضرت صلی علیہ کام کے مکان کا خصوصیت سے تمام رات صحابہ نے پہرہ دیا۔صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ اندیشہ محض خیالی نہ تھا کیونکہ فجر کی نماز سے قبل آنحضرت صلی علی یکم کو یہ اطلاع پہنچی کہ قریش کا لشکر مدینہ سے چند میل جا کر ٹھہر گیا ہے اور رؤسائے قریش میں یہ سر گرم اور بحث جاری ہے کہ اس فتح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوں نہ مدینہ پر حملہ کر دیا جائے اور بعض قریش ایک دوسرے کو طعنہ دے رہے ہیں کہ نہ تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کیا اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قابض ہوئے بلکہ جب تم ان پر غالب آئے اور تمہیں یہ موقع ملا کہ تم ان کو ملیا میٹ کر دو تو تم انہیں یونہی چھوڑ کر واپس چلے آئے تاکہ وہ پھر زور پکڑ جائیں۔پس اب بھی موقع ہے واپس چلو اور مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کی جڑ کاٹ دو۔ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ جو کچھ ہو گیا ہے اسے غنیمت جانو اور مکہ واپس لوٹ چلو۔ایسا نہ ہو کہ یہ شہرت جو تھوڑی سی جنگ کے جیتنے کی حاصل ہوئی ہے یہ بھی کھو بیٹھو اور یہ فتح شکست کی صورت میں بدل جائے لیکن بالآخر جوشیلے لوگوں کی رائے