اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 32
اصحاب بدر جلد 3 32 حضرت عمر بن خطاب 66 إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَغلُونَا اے اللہ ! یہ لوگ ہمارے پاس نہ پہنچ سکیں۔اس پر حضرت عمر بن خطاب نے چند مہاجرین کے ساتھ ان مشرکین کا مقابلہ کیا اور مارتے مارتے ان کو بھگا دیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس درہ کی طرف بڑھا جہاں مسلمان جمع تھے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر پکار کر بولا کہ مسلمانو! کیا تم میں محمد ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔کوئی جواب نہ دے۔چنانچہ سب صحابہ خاموش رہے۔پھر اس نے ابو بکر و عمر کا پوچھا مگر اس پر بھی آپ کے ارشاد کے ماتحت کسی نے جواب نہ دیا۔جس پر اس نے بلند آواز سے فخر کے لہجہ میں کہا کہ یہ سب لوگ مارے گئے ہیں کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔اس وقت حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا اور وہ بے اختیار ہو کر بولے۔اے عدو الله! تو جھوٹ کہتا ہے۔ہم سب زندہ ہیں اور خدا ہمارے ہاتھوں سے تمہیں ذلیل کرے گا۔ابوسفیان نے حضرت عمر کی آواز پہچان کر کہا کہ عمر سچ سچ بتاؤ کیا محمد زندہ ہے ؟ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں ہاں خدا کے فضل سے وہ زندہ ہیں اور تمہاری یہ باتیں سن رہے ہیں۔ابو سفیان نے کسی قدر دھیمی آواز میں کہا۔تو پھر ابن قیمہ نے جھوٹ کہا ہے کیونکہ میں تمہیں اس سے زیادہ سچا سمجھتا ہوں۔اس کے بعد ابوسفیان نے نہایت بلند آواز سے پکار کر کہا۔اُغلُ هبل یعنی اے ہبل تیری شان بلند ہو۔صحابہ آنحضرت صلی علی ایم کے ارشاد کا خیال کر کے خاموش رہے مگر آنحضرت صلی ای ام جو اپنے نام پر تو خاموش رہنے کا حکم دیتے تھے اب خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بہت کا نام آنے پر بے تاب ہو گئے اور فرمایا کہ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہو اللہ آغلی و اَجَل یعنی بلندی اور بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ابو سفیان نے کہا لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزّى لَكُمْ۔ہمارے ساتھ عربی ہے اور تمہارے ساتھ عربی نہیں ہے۔آنحضرت صلی الم نے صحابہ سے فرمایا کہو اللهُ مَوْلَنَا وَلَا مَوْلى لَكُمْ عزیٰ کیا چیز ہے۔ہمارے ساتھ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مددگار نہیں۔اس کے بعد ابو سفیان نے کہا کہ لڑائی ایک ڈول کی طرح ہوتی ہے جو کبھی چڑھتا اور کبھی گرتا ہے۔پس یہ دن بدر کے دن کا بدلہ سمجھو اور تم میدان جنگ میں ایسی لاشیں پاؤ گے جن کے ساتھ محلہ کیا گیا ہے۔میں نے اس کا حکم نہیں دیا مگر جب مجھے اس کا علم ہوا تو مجھے اپنے آدمیوں کا یہ فعل کچھ بُرا بھی نہیں لگا۔اور ہمارے اور تمہارے درمیان آئندہ سال انہی ایام میں بدر کے مقام میں پھر جنگ کا وعدہ رہا۔ایک صحابی نے آنحضرت صلی ولیم کی ہدایت کے ماتحت جواب دیا کہ بہت اچھا یہ وعدہ رہا۔بہر حال یہ کہہ کر ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر نیچے اتر گیا اور پھر قریش کا لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔57 67 مدینہ کے منافقین اور یہود کے متعلق حضرت عمر کا جوش الله سة جب رسول اللہ صلی علی کم غزوہ احد کے بعد مدینہ پہنچے تو منافقین اور یہود خوشیاں منانے لگے اور