اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 479
ب بدر جلد 3 479 حضرت علی لیے ایک لشکر بھیجے۔اس وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اس وقت امریکہ کی ہے۔اس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہوشیار تھا کہا بادشاہ سلامت آپ میری بات سن لیں اور شکر کشی کرنے سے اجتناب کریں۔یہ لوگ اگر چہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلے میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلاف کو بھول جائیں گے۔پھر اس نے ایک مثال دی وہ بھی شاید اس نے تحقیر کے رنگ میں ہی دی ہو بہر حال کس نیت سے دی، تحقیر کی نیت سے یا ویسے ہی سمجھا ہو گا کہ یہ بہتر مثال ہے۔اس نے کہا کہ آپ کتے منگوائیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھو کار کھیں۔پھر ان کے آگے گوشت ڈالیں وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ دونوں اپنے اختلاف کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔اس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تو چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت علی اور معاویہ کے اختلاف سے فائدہ اٹھالے لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پیدا ہو گا یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلے میں متحد ہو جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔جب حضرت معاویہ کو روم کے بادشاہ کے ارادے کا علم ہوا تو آپ نے اسے پیغام بھیجا کہ تُو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے لیکن میں تمہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ میری حضرت علی کے ساتھ بیشک لڑائی ہے لیکن اگر تمہارا لشکر حملہ آور ہوا تو حضرت علی کی طرف سے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو سب سے پہلا جرنیل نکلے گاوہ میں ہوں گا۔56 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر کہتے تھے کہ ہم میں سب سے 956 957 بہتر قرآن پڑھنے والے اُبی بن کعب نہیں اور ہم میں سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی نہیں۔57 حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت علی بھی تھے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی لی ہم کو یہ دعا کرتے سنا۔اے اللہ اتو مجھے موت نہ دینا جب تک کہ تو مجھے علی کو دکھانہ دے۔958 959 رسول اللہ صلی علی کرم نے ایک دفعہ حضرت علی کو ایک سریہ پر بھیجا۔جب وہ واپس آئے تور سول اللہ صلی علیکم نے ان سے فرمایا: اللہ اور اس کار سول اور جبرئیل تجھ سے راضی ہیں۔ایک جگہ ایک واقعہ آتا ہے کہ امیر معاویہ نے خیرار صدائی سے کہا کہ مجھے حضرت علی کے اوصاف بتاؤ۔اس نے کہا کہ امیر المومنین! مجھے اس سے معاف فرمائیں۔امیر معاویہ نے کہا تمہیں بتانا پڑے گا۔ضرار نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر سنیں۔خدا کی قسم !حضرت علی بلند حوصلہ اور مضبوط قویٰ کے مالک تھے۔فیصلہ کن بات کہتے اور عدل سے فیصلہ کرتے تھے۔آپ علم و معرفت کا بہتا چشمہ تھے اور آپ کی بات بات سے حکمت ٹپکتی تھی۔آپؐ دنیا اور اس کی رونقوں سے وحشت محسوس کرتے اور رات اور اس کی تنہائی سے انس رکھتے تھے۔آپ بہت رونے والے اور بہت غور و فکر کرنے والے انسان تھے۔آپ مختصر لباس اور نہایت سادہ کھانا پسند کرتے تھے۔آپ ہمارے درمیان ہمارے جیسے ایک عام "