اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 463
اصحاب بدر جلد 3 463 حضرت علی نہ ہوں گی۔(جو آج کل مسلمان ملکوں کا حال ہے ) ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق رکھو اور تکلفات کے بغیر ایک دوسرے کے کام آؤ۔خبر دار ! ایک دوسرے سے دشمنیاں نہ بڑھاؤ، نہ قطع تعلق کرو اور نہ تفرقہ کرو اور نیکی اور تقویٰ میں باہم تعاون کرو اور گناہ اور سرکشی میں تعاون نہ کرو۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔اے اہل بیت کے معزز افراد ! اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے نبی صلی للی کم کی تمہارے ذریعہ حفاظت کرے یعنی تمہارے نیک نمونے کے ذریعہ رسول اللہ صلی علی کم گو یا ہمیشہ زندہ رہیں۔میں تمہیں اللہ کے سپر د کر تاہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔903 ابوستان کا بیان ہے کہ جب حضرت علی زخمی تھے تو وہ ان کی عیادت کے لیے گئے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے امیر المومنین! آپ کی اس زخمی حالت پر ہمیں بہت تشویش ہو رہی ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا لیکن خدا کی قسم ! مجھے اپنے اوپر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ صادق و مصدوق رسول للہ صلی علی یم نے مجھے بتا دیا تھا کہ تمہیں اس اس جگہ پر زخم آئیں گے اور آپ نے اپنی کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا پھر وہاں سے خون بہے گا حتی کہ تیری داڑھی رنگین ہو جائے گی اور ایسا کرنے والا اس امت کا سب سے بڑا بد بخت شخص ہو گا جیسا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا قوم نمود کا سب سے بڑا بد بخت تھا۔904 ایک روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے قاتل ابن ملجم کے بارے میں فرمایا اس کو بٹھاؤ۔اگر میں مر گیا تو اسے قتل کر دینا مگر اس کا مقلہ نہ کرنا اور اگر میں زندہ رہا تو میں خود اس کی معافی یا قصاص کا فیصلہ کروں گا۔905 حضرت مصلح موعود اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں کہ ” تاریخوں میں لکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک شخص نے خنجر کے ساتھ حملہ کیا اور آپ کا پیٹ چاک کر دیا وہ پکڑا گیا۔“ بہر حال آپ نے یہ لکھا ہے کہ پیٹ چاک کیا۔سر کا زخم بھی تھا۔شاید پیٹ پر بھی زخم ہوا ہو یا ویسے ہی آپ کا خیال تھا یا محاورة بولا۔کیونکہ اکثر روایتیں بہر حال سر کے زخم کی آتی ہیں۔وہ پکڑا گیا تو صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔آپ نے حضرت امام حسن کو بلوایا اور وصیت کی کہ اگر میں مر جاؤں تو میری جان کے بدلے اس کی جان نے لی جائے لیکن اگر میں بچ جاؤں تو پھر اسے قتل نہ کیا جائے۔عمر و ذی مر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی کو تلوار کے زخم آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے اپنا سر لپیٹا ہوا تھا۔میں نے عرض کیا اے امیر المومنین! مجھے اپناز خم دکھائیں۔آپ نے زخم سے کپڑا کھولا تو میں نے عرض کیا ہلکا ساز خم ہے اور کچھ نہیں ہے۔آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں سے جدا ہونے والا ہوں۔اس پر آپ کی صاحبزادی اتم کلثوم پر دے کے پیچھے سے رو پڑیں۔آپ نے اسے فرمایا چپ ہو جاؤ۔اگر تم وہ دیکھ لو جو میں دیکھ رہا ہوں تو نہ روؤ۔میں 906❝