اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 457

حاب بدر جلد 3 457 حضرت علی کی۔کہ قرآن کے مطابق فیصلہ ہوا ہی نہیں۔”دوسرے حکم تو خود تمہارے اصرار کی وجہ سے “مقرر کیے گئے تھے یا ” مقرر کیا گیا تھا اور اب تم ہی کہتے ہو کہ میں نے حکم کیوں مقرر کیا؟ ( یہ جو باغی تھے جو منافق غلط۔تھے ) انہوں نے کہا ہم نے جھک مارا تھا اور ہم نے آپ سے جو کچھ کہا تھاوہ ہماری غلطی تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ بات کیوں مانی۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ ہم بھی گنہ گار ہو گئے اور آپ بھی۔برابر ہو گئے دونوں۔”ہم نے بھی غلطی کا ارتکاب کیا اور آپ نے بھی۔اب ہم نے تو اپنی طی سے توبہ کرلی ہے۔مناسب یہ ہے کہ آپ بھی توبہ کریں اور اس امر کا اقرار کریں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر حضرت علی نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر آپ کی بیعت سے الگ ہو جائیں گے کہ انہوں نے چونکہ ایک خلاف اسلام فعل کیا ہے اس لیے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اگر علی نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر بیعت سے الگ ہو جائیں گے کہ خلافِ اسلام فعل کیا ہے اس لیے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا۔اور کہا کہ میں تو بہ کرتا ہوں تو بھی ان کی خلافت باطل ہو جائے گی کیونکہ جو خص اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرے وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔حضرت علی نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔جس امر کے متعلق میں نے حکم مقرر کیا تھا اس میں کسی کو حکم مقرر کرنا شریعت اسلامیہ کی رو سے جائز ہے۔باقی میں نے حکم مقرر کرتے وقت صاف طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ وہ جو کچھ فیصلہ کریں گے اگر قرآن اور حدیث کے مطابق ہو گاتب میں اسے منظور کروں گاورنہ “ نہیں ”میں اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں کروں گا۔انہوں نے چونکہ اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا اور نہ جس غرض کے لیے انہیں مقرر کیا گیا تھا اس کے متعلق انہوں نے کوئی فیصلہ کیا ہے اس لیے میرے لیے ان کا فیصلہ کوئی حجت نہیں۔مگر انہوں نے حضرت علی کے اس عذر کو تسلیم نہ کیا اور بیعت سے علیحدہ ہو گئے اور خوارج کہلائے اور انہوں نے یہ مذہب نکالا کہ واجب الاطاعت خلیفہ کوئی نہیں۔کثرت مسلمین کے فیصلہ کے مطابق عمل ہوا کرے گا کیونکہ کسی ایک شخص کو امیر واجب الاطاعت ماننا لا حُكْمَ الا للہ کے خلاف ہے۔" جنگ نهروان 138 ہجری میں ہوئی تھی۔نہروان بغداد اور واسط کے درمیان واقع ہے۔اس مقام پر حضرت علی اور خوارج کے درمیان جنگ لڑی گئی تھی۔ابن اثیر کی تاریخ میں یوں لکھا ہے کہ جنگ صفین کے تصفیہ کے لیے حضرت علی کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور امیر معاویہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص حکم مقرر ہوئے۔تاریخ میں اس واقعہ کو تحکیم کہتے ہیں۔تحکیم کے معاملے میں حضرت علیؓ سے ان کے لشکر کے ایک گروہ نے اختلاف کیا اور بغاوت کرتے ہوئے علیحدہ ہو کر خوارج کہلایا۔ان خوارج نے تحکیم کو گناہ قرار دے کر حضرت علی سے تو بہ کرنے اور خلافت سے معزولی کا مطالبہ کیا تو آپ نے صاف انکار کر دیا۔کیوں انکار کیا 897❝ 898