اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 458

اصحاب بدر جلد 3 458 حضرت علی یہ وضاحت پہلے آچکی ہے۔حضرت علی امیر معاویہ کے خلاف دوبارہ شام کی طرف پیش قدمی کی تیاری میں مصروف تھے کہ خوارج نے فسادی سر گرمیاں شروع کر دیں۔انہوں نے عبد اللہ بن وہب کو اپنا امام بنایا اور کو فہ سے نہروان کی طرف چلے گئے۔خوارج نے بصرہ میں بھی اپنا جتھا جمع کیا جو بعد ازاں نہروان میں عبد اللہ بن وہب کے لشکر سے جاملا۔رسول اللہ صلی علیکم کے ایک صحابی عبد اللہ بن حباب کو حضرت علی کی طرفداری پر قتل کر دیا اور ان کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کر کے نہایت بیدردی سے اسے بھی قتل کر دیا اور قبیلہ کے کی تین عورتوں کو بھی قتل کر دیا۔حضرت علی ٹھیک جب یہ حالات پہنچے تو آپ نے تحقیق کے لیے حارث بن مرة کو سفیر کے طور پر بھیجا۔جب وہ ان کے پاس گئے تو خوارج نے انہیں بھی قتل کر دیا۔یہ حالات دیکھ کر حضرت علی نے شام جانے کا ارادہ ترک کیا اور تقریباً پینسٹھ ہزار کا لشکر جو شام کے لیے تیار کیا تھا اسے لے کر خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے۔جب آپ نہروان مقام پر پہنچے تو خوارج کو صلح کی دعوت دی اور حضرت ابو ایوب انصاری کو جھنڈا دیا کہ جو اس کی پناہ میں آجائے گا اس سے جنگ نہیں کی جائے گی۔یہ اعلان سن کر خوارج جن کی تعداد چار ہزار تھی ان میں سے ایک سو حضرت علی کے ساتھ شامل ہو گئے اور ایک بڑی تعداد کو فہ کو لوٹ گئی۔صرف ایک ہزار آٹھ سو افراد عبد اللہ بن وہب خارجی کی سر کردگی میں آگے بڑھے اور حضرت علی کے پینسٹھ ہزار کے لشکر سے جنگ ہوئی جس میں تمام خوارج مارے گئے۔ایک روایت کے مطابق خوارج کی معمولی تعداد جو کہ دس سے بھی کم تھی بیچ سکی۔حضرت علیؓ کے لشکر میں سے سات آدمی شہید ہوئے۔99 حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن نے بیان کیا کہ جب حضرت علی بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو الوداعی ملاقات کے لیے نبی کریم صلی علیم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں آئے۔انہوں نے فرمایا آپ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں جائیں یعنی حضرت علی کو کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں جائیں۔خدا کی قسم !یقینا آپ حق پر ہیں اور حق آپ کے ساتھ ہے۔رسول اللہ صلی المی یوم نے ہمیں گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔اس لیے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ڈر نہ ہو تا تو میں آپ کے ہمراہ چلتی لیکن اللہ کی قسم ! تاہم میں اپنے بیٹے عمر کو آپ کے ساتھ روانہ کرتی ہوں جو میرے نزدیک سب سے افضل ہے اور وہ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔00 حضرت علی کی شہادت اور اس کا پس منظر حضرت مصلح موعود حضرت علی کی شہادت کے پس منظر میں بیان فرماتے ہیں کہ ”ابھی معاملات پوری طرح سمجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں ان کو قتل کر دو۔چنانچہ ان کے دلیر یعنی بہادر لوگ جو تھے ، بعض جرآت والے لوگ جو تھے ” یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علی ہو ، ایک حضرت معاویہ کو اور ایک عمر و بن