اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 432
حاب بدر جلد 3 432 حضرت علی 847" صحابہ کو بھیجا کہ فلاں جگہ ایک عورت ہے اس سے جا کر کاغذ لے آؤ۔انہوں نے وہاں پہنچ کر اس عورت سے کاغذ مانگا تو اس نے انکار کر دیا۔بعض صحابہ نے کہا کہ شاید رسول کریم کو غلطی لگی ہے۔حضرت علی نے کہا نہیں۔آپ کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔جب تک اس سے کاغذ نہ ملے میں یہاں سے نہ ہٹوں گا۔انہوں نے اس عورت کو ڈانٹا تو اس نے وہ کاغذ نکال کر دے دیا۔فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ لیا لیکن جب مسجد الحرام میں تشریف فرما تھے تو حضرت علی آب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں کعبہ کی چابی تھی۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے سقایہ یعنی حج کے موقع پر پانی پلانے کی ڈیوٹی کے ساتھ حجاب ، خانہ کعبہ کو کھولنے اور بند کرنے کی ڈیوٹی کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔آپ نے فرمایا عثمان بن طلحہ کدھر ہے ؟ اسے بلایا گیا تو آپ صلی ہی ہم نے فرمایا: اے عثمان ! یہ تیری چابی ہے۔آج کا دن نیکی اور وفا کا دن ہے اور رسول اللہ صلی الیکم نے حضرت علی سے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہیں دوں گا جس سے تم لوگ مشقت اور تکلیف میں پڑو بلکہ وہ دوں گا جس میں تم لوگوں کے لیے خیر اور برکت ہو گی اور میں تم کو وہ چیز نہیں دوں گا جس کی تم خود ذمہ داری لینا چاہو۔خود مانگ کے لے رہے ہو تو نہیں ( دوں گا )848 حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی المینیوم نے مکہ کے بالائی حصہ میں پڑاؤ فرمایا تو بنی مخزوم میں سے میرے دو سسرالی رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آگئے۔حضرت ام ہانی کہتی ہیں کہ میر ابھائی علی میرے پاس آیا اور کہا خدا کی قسم ! میں ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔حضرت ام ہانی کہتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کے لیے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا۔پھر میں خود رسول اللہ صلی الیکم کے پاس مکہ کے بالائی حصہ میں آئی۔میں نے آپ کو پانی کے ایک برتن میں سے غسل کرتے پایا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کے نشانات موجود تھے اور آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ایک کپڑے کے ساتھ آپ کے لیے پر وہ کیسے ہوئے تھیں۔غسل کے بعد آپ نے اپنے کپڑے تبدیل کیے۔پھر چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی۔پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ام ہائی۔خوش آمدید۔تمہارا کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے ان دونوں آدمیوں اور حضرت علیؓ کے متعلق سارا معاملہ بتایا کہ اس طرح حضرت علی ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اور میں ان کو اپنے گھر میں چھپا کے آئی ہوں۔آپ نے فرمایا جن کو تم نے پناہ دی انہیں ہم نے پناہ دی اور جن کو تم نے امان دی ان کو ہم نے بھی امان دی۔پس وہ ان دونوں کو قتل نہ کرے یعنی رسول پاک صل اللہ ہم نے فرمایا کہ حضرت علی ان کو قتل نہیں کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے حویرث بن نقید کے قتل کا حکم نامہ جاری فرمایا ہوا تھا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی الیکم کو مکہ میں ایذا پہنچاتا تھا اور آپ کی اذیت کے لیے بڑی بڑی باتیں کر تا تھا اور ہجو کیا کرتا تھا۔رسول الله صلى ال نیلم کے چچا حضرت عباس نے جب حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کو مکہ سے 849