اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 431

محاب بدر جلد 3 431 حضرت علی رہے ہیں۔میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر کوئی احسان کر دوں کیونکہ ان میں کوئی رشتہ داری تو میری تھی نہیں شاید وہ اس احسان ہی کی وجہ سے میرا پاس کریں اور میں نے کسی کفر یا ارتداد کی وجہ سے یہ نہیں کیا، نہ میں نے انکار کیا ہے ، نہ مرتد ہوا ہوں ، نہ میں نے اسلام کو چھوڑا ہے ، نہ میں منافق ہوں۔میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا) اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کبھی پسند نہیں کیا جا سکتا۔( میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ) یہ سن کر رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ بیان کیا ہے۔یعنی ان کی بات مان لی۔845 اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں۔صرف ایک کمزور صحابی نے مکہ والوں کو خط لکھ دیا کہ رسول اللہ صلی ال یکم دس ہزار کا لشکر لے کر نکلے ہیں۔مجھے معلوم نہیں آپ کہاں جا رہے ہیں لیکن میں قیاس کرتا ہوں کہ غالباً وہ ملکہ کی طرف آرہے ہیں۔میرے مکہ میں بعض عزیز اور رشتہ دار ہیں میں امید کرتا ہوں کہ تم اس مشکل گھڑی میں ان کی مدد کرو گے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دو گے۔یہ خط ابھی مکہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم ملی الیکم نے صبح کے وقت حضرت علی کو بلایا اور فرمایا تم فلاں جگہ جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہاں ایک عورت اونٹنی پر سوار تم کو ملے گی اس کے پاس ایک خط ہو گا جو وہ مکہ والوں کی طرف لے جارہی ہے۔تم وہ خط اس عورت سے لے لینا اور فوراًمیرے پاس آجانا۔جب وہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا۔دیکھنا وہ عورت ہے اس پر سختی نہ کرنا۔اصرار کرنا اور زور دینا کہ تمہارے پاس خط ہے لیکن اگر پھر بھی وہ نہ مانے اور منتیں سماجتیں بھی کام نہ آئیں تو پھر تم سختی بھی کر سکتے ہو اور اگر اسے قتل کرنا پڑے تو قتل بھی کر سکتے ہو لیکن خط نہیں جانے دینا۔چنانچہ حضرت علی وہاں پہنچ گئے۔عورت موجود تھی۔وہ رونے لگ گئی اور قسمیں کھانے لگ گئی کہ کیا میں غدار ہوں ؟ دھو کے باز ہوں ؟ آخر کیا ہے ؟ تم تلاشی لے لو۔چنانچہ انہوں نے ادھر اُدھر دیکھا، اس کی جیبیں ٹٹولیں، سامان دیکھا مگر خطا نہ ملا۔صحابہ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے خط اس کے پاس نہیں۔حضرت علی کو جوش آگیا۔آپ نے کہا تم چپ رہو اور بڑے جوش سے کہا کہ خدا کی قسم !رسول کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔چنانچہ انہوں نے اس عورت سے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی علیم نے کہا ہے کہ تیرے پاس خط ہے اور خدا کی قسم! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔پھر آپ نے تلوار نکالی اور کہا یا تو سیدھی طرح خط نکال کر دے دے ورنہ یادر کھ اگر تجھے نگا کر کے بھی تلاشی لینی پڑی تو میں تجھے نگا کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی للی تم نے سچ بولا ہے اور تو جھوٹ بول رہی ہے۔چنانچہ وہ ڈر گئی اور جب اسے ننگا کرنے کی دھمکی دی گئی تو اس نے جھٹ اپنی مینڈھیاں کھولیں۔ان مینڈھیوں میں اس نے خط رکھا ہوا تھا جو اس نے نکال کر دے دیا۔پھر ایک جگہ اس واقعے کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیکم کے زمانہ میں ایک صحابی نے اپنے رشتہ داروں کو مکہ پر مسلمانوں کے حملہ کی خبر پوشیدہ طور پر پہنچانی چاہی تاکہ اس ہمدردی کے اظہار کی وجہ سے وہ اس کے رشتہ داروں سے نیک سلوک کریں۔لیکن آنحضرت صلی ا تم کو الہام کے ذریعہ یہ بات بتا دی گئی۔آپ نے حضرت علی اور چند ایک اور 846"