اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 430
تاب بدر جلد 3 430 حضرت علی 844 میں ہی حضرت ابو بکر سے جاملے۔جب حضرت ابو بکر نے حضرت علی کو راستے میں دیکھا تو کہا کہ آپ کو امیر مقرر کیا گیا ہے یا آپ میرے ماتحت ہوں گے ؟ حضرت علی نے کہا کہ آپ کے ماتحت۔پھر دونوں روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکر نے لوگوں کی حج کے امور پر نگرانی کی اور اس سال اہل عرب نے اپنی انہی جگہوں پر پڑاؤ کیا ہو ا تھا جہاں وہ زمانہ جاہلیت میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔جب قربانی کا دن آیا تو حضرت علی کھڑے ہوئے اور لوگوں میں اس بات کا اعلان کیا جس کا رسول اللہ صلی ال نیلم نے ارشاد فرمایا تھا اور کہا اے لوگو! جنت میں کوئی کافر داخل نہیں ہو گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔نہ ہی کسی کو ننگے بدن بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی اور جس کسی کے ساتھ آنحضرت صلی انم نے کوئی معاہدہ کیا ہے اس کی مدت پوری کی جائے گی اور لوگوں کو اس اعلان کے دن سے چار ماہ تک کی مہلت دی تا کہ ہر قوم اپنے امن کی جگہوں یا اپنے علاقوں کی طرف لوٹ جائے۔پھر نہ کسی مشرک کے لیے کوئی عہد یا معاہدہ ہو گا اور نہ ذمہ داری سوائے اس عہد یا معاہدہ کے جو رسول اللہ صلی للی کم کے پاس کسی مدت تک ہو۔یعنی جس معاہدے کی مدت ابھی باقی ہے ان معاہدوں کے علاوہ کوئی نیا معاہدہ نہیں ہو گا۔تو اس کا مقررہ مدت تک پاس کیا جائے گا۔پھر اس سال کے بعد نہ کسی مشرک نے حج کیا اور نہ کسی نے ننگے بدن حج کیا۔پھر وہ دونوں ( حضرت علی اور حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی علی کم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔843 یہ روایت جو اب میں پڑھنے لگا ہوں پہلے بھی ایک صحابی کے ذکر میں بیان ہو چکی ہے 8 لیکن یہاں حضرت علی کے حوالے سے بھی بیان کرتا ہوں۔فتح مکہ کے موقعے کی ہے جو رمضان 8 ہجری میں جنوری 630ء کا واقعہ ہے۔حضرت علیؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللیم نے مجھے ، زبیر اور مقداد بن اسوڈ کو بھیجا۔آپ نے فرمایا تم چلے جاؤ تم روضہ خارخ، یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے جو عورت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ تم چلے جاؤ۔جب تم روضہ خاخ ایک جگہ ہے وہاں پہنچو تو وہاں ایک شتر سوار عورت ہو گی اور اس کے پاس ایک خط ہے تم وہ خط اس سے لے لو۔ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔جب ہم روضہ خاخ میں پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شتر سوار عورت موجود ہے۔ہم نے اسے کہا کہ خط نکالو۔وہ کہنے لگی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ہم نے کہا تمہیں خط نکالنا ہو گا ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے اور تلاشی لیں گے۔اس پر اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا اور ہم وہ خط رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس لے آئے۔دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکوں کے نام۔وہ رسول اللہ صلی الم کے کسی ارادہ کی ان کو اطلاع دے رہا تھا۔رسول اللہ صلی الم نے حاطب بن ابی بلتعہ کو بلایا اور پوچھا حاطب یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ! میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں۔میں ایک ایسا آدمی تھا جو قریش میں آکر مل گیا تھا۔ان میں سے نہ تھا اور دوسرے مہاجرین جو آپ صلی الی یکم کے ساتھ تھے ان کی مکہ میں رشتہ داریاں تھیں جن کے ذریعہ سے وہ اپنے گھر بار اور مال و اسباب کو بچاتے الله سة