اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 418
باب بدر جلد 3 418 حضرت علی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی علی ظلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ہم کھڑے ہونے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔آپ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جو تم نے مانگا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم دونوں اپنے بستروں پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو، تینتیں دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس دفعہ الحمد للہ کہو۔یہ تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ نبی کریم صلیالی کمی کی خدمت میں آپ سے خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں اور کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا تم اس خادم کو ہمارے پاس نہیں پاؤ گی یعنی اس طرح تمہیں مجھ سے خادم نہیں ملے گا۔آپ نہیں دینا چاہتے تھے۔حالانکہ حضرت علی علما بھی مال غنیمت میں سے حق بنتا تھا لیکن آپ نے نہیں دیا۔آپ نے فرمایا کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتاؤں جو تیرے لیے خادم سے بہتر ہے؟ تم اپنے بستر پر جاتے ہوئے تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو، تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر کہو۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔821 حضرت مصلح موعود آنحضرت صلی اللہ علم کی سیرت بیان فرماتے ہوئے اس واقعے کو بخاری کے حوالہ سے یوں بیان فرماتے ہیں۔حدیث یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شکایت کی کہ چکی پینے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔اسی عرصے میں آنحضرت صلی اللی علم کے پاس کچھ غلام آئے۔آپ آنحضرت صلی میزنم کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔جب آنحضرت صلی للی دم گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے جناب صلی علیم کو حضرت فاطمہ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپ صلی المیہ کم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت صلی نیلم نے فرمایا کہ اپنی جگہ لیٹے رہو۔پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ کے قدموں کی خنکی میرے سینے پر محسوس ہونے لگی۔جب آپ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونیتس دفعہ تکبیر کہو، تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس دفعہ الحمد للہ کہو۔پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہو گا۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی علیکم اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پینے سے آپ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔آپ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لیے آپ صلی ایم کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آتے تھے الله الله سة