اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 411

محاب بدر جلد 3 411 حضرت علی ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی ہم نے سو صحابہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی یعنی پچاس مهاجرین اور پچاس انصار کے درمیان۔805 غزوات میں شمولیت اور جرآت و بہادری حضرت علی غزوہ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیہ نام کے ساتھ شامل ہوئے سوائے غزوۂ تبوک کے۔غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی لی تم نے ان کو اہل و عیال کی نگہداشت کے لیے مقرر فرمایا تھا۔806 حضرت ثعلبہ بن ابو مالیک بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ہر موقعے پر رسول اللہ صلی علیکم کی طرف سے علمبر دار ہوتے تھے مگر جب لڑائی کا وقت آتا تو حضرت علی بن ابوطالب جھنڈا لے 807 808 غزوہ عشیرہ جمادی الاولی دو ہجری میں ہوا تھا۔تاریخ وسیرت کی کتب میں اس غزوہ کا نام غزوہ عشیرہ کے علاوہ غزوہ ذوالعشیرہ، ذات العشیرہ اور عسیرہ بھی بیان ہو ا ہے۔عشیرہ ایک قلعے کا نام ہے جو کہ حجاز میں يَنْبُغ اور ذُو الْمَرْوَة کے درمیان واقع ہے۔اس کے متعلق تفصیل بیان فرماتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں تحریر فرمایا ہے کہ جمادی الاولیٰ سن 12 ہجری میں قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبر پا کر آپ صلی میں کم مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینے سے نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابو سلمہ بن عبد الاسد کو امیر مقرر فرمایا۔اس غزوے میں آپ صلی للی کم کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب ینبع کے پاس مقام عشیرہ تک پہنچے اور گو قریش کا مقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ صلی علیہ یکم نے قبیلہ بنو مدلج کے ساتھ ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔8 حضرت علی اس غزوے میں شامل ہوئے تھے۔اس حوالے سے مسند احمد بن حنبل کی روایت اس طرح ہے کہ حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ ذات العشیر ہمیں حضرت علی اور میں رفیق سفر تھے۔جب آنحضور صلی ال یکم اس جگہ تشریف لے گئے اور وہاں قیام فرمایا تو ہم نے بنو مد لج کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجور کے باغات میں اپنے ایک چشمے پر کام کر رہے ہیں۔حضرت علی نے مجھے فرمایا اے ابو يقظان تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ہم ان لوگوں کے پاس جائیں اور دیکھیں وہ کیا کر رہے ہیں ؟ پس ہم ان کے پاس آئے اور ان کے کام کو کچھ دیر دیکھا۔پھر نہیں نیند آنے لگی تو میں اور حضرت علی وہاں سے چلے اور کھجوروں کے درمیان مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے۔اللہ کی قسم! ہمیں نبی اکرم صلی الم کے علاوہ کسی نے نہ جگایا۔آپ صلی اللہ یکم نے ہمیں اپنے پاؤں کے مس سے جگایا جبکہ ہمارے جسموں پر مٹی لگ چکی تھی۔اس دن نبی کریم صلی الم نے حضرت علی کے جسم پر مٹی دیکھ کر فرمایا۔اے ابو تراب! پھر آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں دو بد بخت ترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ابو تراب کا ذکر پچھلی دفعہ بھی خطبے میں ہوا