اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 392

اصحاب بدر جلد 3 392 حضرت عثمان بن عفان زبان کی نازل شدہ قراءت بتائی۔چنانچہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو ان کی اپنی زبان میں سورت پڑھنے کی اجازت دے دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خالص شہری زبان میں وہ سورت پڑھا دی۔اس قسم کے چھوٹے چھوٹے فرق ہیں جو مختلف قراء توں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے مگر ان کا نفس مضمون پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ تمدن اور تعلیم اور زبان کے فرق کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔“ پھر آپؐ فرماتے ہیں کہ " تمدن اور حکومت کے ذریعہ سے قبائلی حالت کی جگہ ایک قومیت اور ایک زبان نے لے لی اور سب لوگ حجازی زبان سے پوری طرح آشنا ہو گئے تو حضرت عثمان نے سمجھا اور صحیح سمجھا کہ اب ان قراء توں کو قائم رکھنا اختلاف کو قائم رکھنے کا موجب ہو گا۔اس لئے ان قراء توں کا عام استعمال اب بند کرنا چاہئے ، باقی کتب قراءت میں تو وہ محفوظ رہیں گی۔پس انہوں نے اس نیک خیال کے ماتحت عام استعمال میں حجازی اور اصل قراءت کے سوا باقی قراء توں سے منع فرما دیا اور عربوں اور عجمیوں کو ایک ہی قراءت پر جمع کرنے کے لئے تلاوت کے لئے ایسے نسخوں کی اجازت دی جو حجازی اور ابتدائی قراءت کے مطابق تھے۔7554 صحابہ میں حضرت عثمان کا مقام حضرت عثمان کا کیا مقام تھا، صحابہ ان کو کس طرح آنحضرت صلی ال نیم کی زندگی میں بھی اور اس کے بعد بھی دیکھتے تھے۔اس بارے میں روایت ہے۔نافع نے حضرت ابن عمررؓ سے روایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی علیم کے زمانے میں ہم لوگوں میں سے ایک کو دوسرے سے بہتر قرار دیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکر سب سے بہتر ہیں۔پھر حضرت عمر بن خطاب۔پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم۔بخاری کی روایت ہے۔756 اور ایک دوسری روایت بخاری میں اس طرح ہے۔نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی الی نام کے زمانے میں تھے۔کسی کو بھی حضرت ابو بکڑ کے برابر نہیں سمجھا کرتے تھے۔پھر حضرت عمرؓ کے برابر۔پھر حضرت عثمان کے برابر۔پھر نبی صلی علی کلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے تھے۔ان میں سے کسی کو ایک دوسرے سے افضل نہیں سمجھتے تھے۔757 پھر حضرت عثمان کے آنحضرت صل لل علم کے بعد بہترین لوگوں میں شمار ہونے کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں اس میں محمد بن حنفیہ کی روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی للی یکم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ انہوں نے کہا ابو بکر میں نے پوچھا ان کے بعد کون ؟ انہوں نے کہا پھر عمر۔پھر میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا کہ پھر کون؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت عثمان۔پھر میں نے کہا اے میرے باپ! ان کے بعد کیا آپ ؟ تو آپ نے جواب دیا